لبنان بھیجی جانے والی ترسیلات کی کڑی سعودی نگرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں فیڈریشن آف چیمبرز کے سربراہ محمد شقیر نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب نے مملکت میں لبنانی ورکروں کی اپنے ملک ترسیلات زر کے حوالے سے نئے اقدامات کیے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ " ایک ٹرانزیکشن کے بیروت پہنچنے سے قبل 3 سے 4 روز کا وقت لگ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سعودی حکام بھیجنے والے کی اور جس جانب رقم منتقل کی جارہی ہے اس کی شناخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد دہشت گرد تنظیموں تک مالی رقوم پہنچنے سے روکنا ہے"۔ شقیر کے مطابق سعودی عرب کا نیا اقدام سیاسی نہیں بلکہ خالصتا اقتصادی اور سیکورٹی نوعیت کا ہے اور بینکنگ کے بین الاقوامی قوانین کے عین مطابق ہے۔

سعودی عرب اور امریکا نے گزشتہ برس اپریل میں متعدد تنظیموں کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ اس کے علاوہ سعودی امریکی تعاون سے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں چھ افراد اور اداروں کو گرفت میں لایا گیا جنہوں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کی دہشت گرد سرگرمیوں کو سپورٹ کرنے کے واسطے رقوم جمع کی تھیں۔

گزشتہ برس مئی میں سعودی عرب نے حزب اللہ کے قائدین کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا جو خطے میں انارکی اور عدم استحاکم پھیلانے میں سرگرم رہے تھے۔ مملکت کی جانب سے مجموعی طور پر 17 شخصیات اور 6 اداروں کو دہشت گرد فہرست میں شامل کیا گیا۔

یاد رہے کہ لبنان کے مرکزی بینک نے حال ہی میں حزب اللہ سے ربط رکھنے والے 100 سے زیادہ کھاتوں کو بند کیا ہے۔ یہ اقدام حزب اللہ کو مالی رقوم کی فراہمی کے نیٹ ورک کے انسداد کے لیے منظور کیے گئے امریکی قانون پر عمل درامد کرتے ہوئے کیا گیا۔ بینک کے مطابق اس کی اولین ترجیح لبنان کو بین الاقوامی مالیاتی نقشے پر باقی رکھنا ہے ، اسی لیے لبنان میں امریکی قانون کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں