.

فلوجہ میں موجود داعش کو راستہ دیا جاسکتا ہے: عراقی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج کے ایک اعلیٰ جنرل نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ مغربی شہر فلوجہ میں صف آراء داعش کے جنگجوؤں کو فرار کا راستہ دیا جاسکتا ہے لیکن انھوں نے کہاہے کہ ان میں سے زیادہ تر آخر دم تک لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔

عراقی فوجیوں نے جمعہ کو فلوجہ کی بلدیہ کی عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔تاہم شہر کے بہت سے علاقوں پر داعش کا قبضہ برقرار ہے اور انھوں نے عراقی فوج کی پیش قدمی روکنے کے لیے بہت سے شاہراہوں پر اور اہم عمارتوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں۔

داعش کے خلاف کارروائی میں عراقی فوج کی مشترکہ کمان کے سربراہ جنرل طالب شغاطی مشاری الکنعانی نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''داعش کے جنگجو بے گناہ عراقیوں کو ہلاک کرنے کے لیے خودکش بم دھماکے کرسکتے ہیں کیونکہ انھیں یقین ہے کہ وہ اس طرح جنت میں چلے جائیں گے''۔

ان سے جب سوال کیا گیا کہ کیا عراقی فورسز جنگجوؤں کو شہر سے نکلنے کا راستہ دیں گی تاکہ شدید لڑائی ،ان میں شہریوں کی ہلاکتوں اور ڈھانچے کو تباہ ہونے سے بچایا جاسکے۔اس کے جواب میں جنرل طالب کنعانی نے کہا کہ وہ اس کی کوشش کریں گے۔

عراقی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیائیں الحشد الشعبی 23مئی سے امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے فلوجہ میں داعش کے خلاف بڑی کارروائی کررہی ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ نوّے ہزار سے زیادہ شہری فلوجہ میں پھنس کررہ گئے ہیں اور اب شہر میں خوراک اور پانی کی قلت ہوتی جارہی ہے۔

الحشد الشعبی کو ایران کے پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے منظم کیا ہے اور وہی داعش مخالف جنگ میں ان کی رہ نمائی کررہے ہیں۔ان شیعہ ملیشیاؤں نے فلوجہ سے جانیں بچا کر نکلنے والے بیسیوں سنی شہریوں کو اذیتیں دے کر موت کی نیند سلا دیا ہے۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مختلف گروپ عراقی فوج کے شانہ بشانہ شیعہ ملیشیاؤں کے فلوجہ میں داعش کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے پر فرقہ وارانہ بنیاد پر ہلاکتوں کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اب عراقی جنرل کا کہنا تھا کہ فلوجہ کے اندر داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں شعیہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ الحشد کی شمالی شہر موصل میں بھی داعش کے خلاف کارروائی میں کوئی ضرورت نہیں ہوگی اور وہاں حاشید قبیلے ،مقامی پولیس اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے سنی رضاکاروں کو بروئے کار لایا جائے گا۔

جنرل کنعانی نے بتایا ہے کہ فوج کو موصل کے شہریوں کی جانب سے داعش کے خلاف بغاوت کی اطلاعات ملی ہیں۔ان کے ساتھ تعاون اور رابطے کے ذریعے داعش مخالف کارروائی میں موصل کو آزاد کرانے میں مدد ملے گی۔شہر میں بعض گروپوں نے عوامی جگہوں پر نعرے لکھ دیے ہیں۔تاہم وہ ابھی کھل کر سامنے نہیں آئے ہیں۔انھوں نے داعش کے چیک پوائنٹس پر بھی حملے کیے ہیں۔

واضح رہے کہ عراقی حکومت نے گذشتہ ہفتے مغربی شہر فلوجہ کا کنٹرول واپس لینے کے لیے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شریک شیعہ ملیشیاؤں کے ہاتھوں سُنی شہریوں کے اجتماعی قتل کی تحقیقات شروع کردی ہے اور جانیں بچا کر فرار ہوتے شہریوں کو فائرنگ کا نشانہ بنانے والے متعدد جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا ہے۔