.

محمود عباس یہودی ربی پر پانی میں زہرملانے کے الزام سے دستبردار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس اپنے اس دعوے سے دستبردار ہوگئے ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یہودی ربیوں نے فلسطینی کنووں کے پانی میں زہر ملانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فلسطینی صدر کے دفتر کی جانب سے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''مختلف میڈیا ذرائع نے ایک یہودی ربی کے فلسطینی کنووں میں زہر ملانے سے متعلق بیانات رپورٹ کیے تھے لیکن بعد میں یہ بیانات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔اس لیے صدر محمود عباس اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں یہودیت یا یہودی عوام کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں''۔

محمود عباس نے گذشتہ جمعرات کو برسلز میں یورپی پارلیمان میں تقریر کرتے ہوئے یہ بیان دیا تھا اور اسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف اقدامات کی مذمت کی تھی جن کے نتیجے میں 2014ء سے امن عمل تعطل کا شکار چلا آ رہا ہے۔

انھوں نے اس تقریر پر یورپی ارکان پارلیمان سے خوب داد پائی تھی لیکن پانی میں زہر ملانے کے بیان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے شدید مذمت کی تھی۔

یاد رہے کہ ماضی میں بھی یہودیوں پر پانی میں زہر ملانے سے متعلق الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں اور انھیں ان بیانات کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔چودھویں صدی میں یورپ بھر میں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی تھی۔اس پر یہودیوں پر یہ غلط الزام عاید کیا گیا تھا کہ وہ اس بیماری کے ذمے دار ہیں کیونکہ انھوں نے کنووں میں جان بوجھ کر زہر ملا دیا تھا۔اس الزام کے بعد یہودیوں کے خلاف شدید ردعمل ہوا تھا اور بعض مقامات پر ان کا قتل عام کیا گیا تھا۔