بشار کی فوج کا حلب کے مشرقی حصوں کا مکمل محاصرہ
شام میں بشار الاسد کی سرکاری فوج نے اتوار کی صبح حلب شہر کے مشرقی علاقوں کا محاصرہ کرلیا۔ انسانی حقوق کی رصدگاہ کے مطابق ان علاقوں پر شامی اپوزیشن کی جماعتوں کا کنٹرول ہے۔
شامی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے بتایا کہ " حکومتی فوج نے کاستیلو کا راستہ سرکاری طور پر منقطع کردیا ہے اور شہر کے مشرقی علاقوں کا سرکاری طور پر مکمل محاصرہ کرلیا ہے"۔
سرکاری فوج کی پیش قدمی اور حلب کے مشرقی علاقوں سے نکلنے کے آخری راستے کاستیلو تک وصولی ، جنوبی جانب میں واقع فارمز پر کنٹرول حاصل کرنے کے دس روز بعد عمل میں آئی ہے۔ 7 جولائی سے کاستیلو کے اطراف دو مشرقی اور مغربی سمتوں میں بشار الاسد کی فوج اور جنگجو گروپوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے ۔
شامی رصدگاہ کے مطابق اُس وقت سے ہی حلب کے مشرقی حصے جن میں دو لاکھ سے زیادہ افراد رہتے ہیں، عملی طور پر محصور تھے اور اب اتوار کی صبح ان کا محاصرہ پوری طرح مکمل ہوگیا ہے۔
اس سلسلے میں "ثوار حلب" نامی گروپ کے ایک جنگجو نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "حلب سو فی صد طور پر محصور ہے۔ فوج راستے پر پہنچ چکی ہے اور اب مٹی کی رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے"۔
خبررساں ایجنسی کے نمائندے کے مطابق حلب کے مشرقی حصوں کے اندر شدید جھڑپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔
شام کا دوسرا بڑا شہر حلب 2012 سے کنٹرول کے لحاظ سے سرکاری فوج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان تقسیم ہے۔
-
شام کے سرکاری مفتی کےمتنازع بیان کا فرانس دہشت گردی سے تعلق؟
’نیس حملہ پیرس میں ایران مخالف کانفرنس پر تہران کا انتقام‘
مشرق وسطی -
امریکا کا شامی صدر بشارالاسد کا اقتدار بچانے کے لیے نیا منصوبہ
امریکی اتحاد شام میں روس سے مل کر داعش اور النصرۃ محاذ کے خلاف مشترکہ کارروائی کرے ...
بين الاقوامى -
شام وعراق میں بیلجین جنگجوؤں کی تفصیلات منظرعام پر
یورپی ملک بیلجیم کی وزارت داخلہ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ...
مشرق وسطی