.

عراق : فرقہ پرست پاپولر موبیلائزیشن ملیشیا سرکاری فوج میں ضم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں فرقہ پرست ملیشیائیں"پاپولر موبیلائزیشن" (جن پر شہریوں کے قتل ، اغوا ، تشدد اور بے دخل کیے جانے کے سنگین الزامات ہیں) اب عراقی مسلح افواج کا حصہ بن گئی ہیں۔ اس اقدام سے ایران کے حالیہ بیانات کی وضاحت ہوجاتی ہے جس میں ایرانی پاسدارانقلاب کے طرز پر "عراقی پاسداران انقلاب" تشکیل دینے کے منصوبے پر بات کی گئی تھی جو عراقی فوج کے متوازی ایک عسکری طاقت ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ فورس بغداد میں حکمران شیعہ سیاسی جماعتوں کی حفاظت کا آلہ کار بھی ہو جیسا کہ تہران میں پاسداران انقلاب کے ساتھ معاملہ ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے دفتر کے ترجمان سعد الحدیثی نے "اناضول" نیوز ایجنسی کو بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے منگل کے روز جاری فیصلے میں "پاپولر موبیلائزیشن " کو مسلح افواج میں ضم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان فرقہ پرست ملیشیاؤں کے ترجمان احمد الاسدی نے منگل کے روز اخباری بیان میں باور کرایا تھا کہ پاپولر موبیلائزیشن کو انسداد دہشت گردی کے ادارے کے متوازی ایک عسکری فورس میں بدلنے کا کام شروع ہوگیا ہے جو کئی بریگیڈز پر مشتمل ہوگی۔

پاسداران انقلاب کے کمانڈر کی تجویز

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر جنرل محسن رفیق دوست نے جو 1979 کے انقلاب کے بعد پاسداران کے نمایاں ترین بانیوں میں سے ہیں، گزشتہ ماہ یہ تجویز دی تھی کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے طرز پر "عراقی پاسداران انقلاب" کی تشکیل عمل میں لائی جائے جس کو مسلح کرنے، تربیت دینے اور تجربے کی منتقلی میں تہران کا براہ راست کردار ہو۔

محسن رفیق دوست کا کہنا تھا کہ " ایرانی پاسداران انقلاب بین الاقوامی سطح پر ایک شان دار، کامیاب اور آزمودہ نمونہ ہے اور یہ خطے کے ممالک کے لیے ایک بہت اچھا نمونہ ہوسکتا ہے"۔

یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کوئی عسکری فورس نہیں ہے بلکہ اقتصادی سرگرمیوں میں اس کا وسیع پیمانے پر حصہ رہا ہے،وہ طاقت کے زور پر ایران کے سیاسی امور میں بھی مداخلت کرتے ہیں، وسیع سکیورٹی ذمہ داریاں سرانجام دیتے ہیں جن میں شورشوں اور بغاوت کی تحریکوں کو کچلنا ، مخالفین کی آوزاوں کو خاموش کرانا اور ایرانی نظام کی کسی بھی اندرونی یا بیرونی خطرے سے حفاظت کرنا اہم ترین ہیں۔

خطے کی سطح پر یہ اپنے بیرونی ونگ "فيلق القدس" جس کا کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی ہے، اس کے ذریعے بحرانی کیفیت سے دوچار علاقوں میں مداخلت کرتے ہیں۔ بالخصوص جس طرح وہ شام کی فوج کو عسکری مشاورت پیش کرنے کے نام پر درحقیقت بشار الاسد کی حکومت کے دفاع کے لیے شام کے اندر کود پڑے ہیں۔ زمینی رپورٹوں سے پاسداران انقلاب کے شام کے اندر جاری جنگ میں براہ راست شرکت کی تصدیق ہوچکی ہے جہاں اس کے کمانڈروں اور اہل کاروں کی ایک بڑی تعداد ماری گئی ہے۔

ادھر عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کی نگرانی میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل "پوپولر موبیلائزیشن" تشکیل دی گئی۔ یہ ایرانی ملیشیا "باسیج" کے طرز پر تیار کی گئی۔

عراق کے مقامی حلقوں کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی حلقے بھی پاپولر موبیلائزیشن پر اُن شہریوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں جو فلوجہ ، تکریت، الانبار اور دیگر علاقوں میں داعش تنظیم کی گرفت سے فرار ہو کر نکلے۔ اس سلسلے میں جاری وڈیوز میں عراق میں ملیشیاؤں کے ہاتھوں شہریوں کو مار پیٹ اور تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دیکھا گیا۔

ایرانی منصوبہ

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمد صالح جوکار عراق میں پاسداران انقلاب فورسز کی تشکیل کے حوالے سے ایرانی منصوبے کے کچھ حصے کا انکشاف کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فورسز عراق میں شیعہ گروپوں اور ملیشیاؤں کو ضم کر کے تشکیل دی جاسکتی ہیں جس میں الخراسانی بریگیڈز کا مرکزی کردار ہو۔

مذکورہ رکن پارلیمنٹ جوکار کو یورپی یونین نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے دیگر 29 ذمہ داران کے ساتھ اکتوبر 2011 میں پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ جوکار کا کہنا ہے کہ " اگر خطے میں کوئی ملک ایرانی پاسداران انقلاب کے طرز پر مماثل فورسز تشکیل دینے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس سلسلے میں ہم ایران میں اپنا تجربہ اور مشاورت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

جوکار نے دعوی کیا کہ پاسداران انقلاب کا تجربہ شام ، یمن اور عراق میں کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا کہ "عوامی فورسز تشکیل دینے کے لیے لوگوں کو اکٹھا کرلینا شام ، عراق اور یمن میں باسیج فورسز کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ہے"۔

ایرانی پاسداران انقلاب میں بیرونی کارروائیوں کے ونگ فیلق القدس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا پاپولر موبیلائزیشن کی تاسیس اور تشکیل میں ایک بڑا کردار رہا۔ اس سلسلے میں اسے عراق میں ایران کے اہم حلیفوں کی سپورٹ بھی حاصل رہی۔ ان افراد میں بدر تنظیم کے کمانڈر ہادی العامری ، سابق عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور پاپولر موبیلائزیشن کمیٹی کے سربراہ انجینئر ابو مہدی سرفہرست ہیں۔ بالخصوص ابومہدی نے پاپولر موبیلائزیشن کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تاکہ عراقی فوج اور ایرانی اسلحے کے متوازی ایک فورس قائم ہو جو مستقبل میں کسی بھی سیاسی تبدیلیوں کے ساتھ نمٹ سکے۔