علامہ طاہرالقادری کا اسلام آباد میں دھرنا ختم
انقلابی دھرنے ملک کے دوسرے شہروں میں منتقل کرنے کا اعلان
پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہرالقادری نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت کے خلاف جاری اپنی جماعت کا دھرنا اچانک مگر باضابطہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے اسلام آباد میں منگل کی شب اپنے حامیوں سے خطاب میں احتجاجی دھرنا ختم کرنے اور انقلاب کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔اس کے تحت ملک بھر کے شہروں اور قصبوں میں احتجاجی جلسے منعقد کیے جائیں گے اور دھرنے دیے جائیں گے۔انھوں نے اپنے حامیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ''وہ اپنا سامان سمیٹیں اور فاتحانہ جذبے کے ساتھ گھروں کو لوٹ جائیں''۔
انھوں نے کہا کہ''اب ملک بھر میں شہر شہر،نگر نگر دو دو دن کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ ان کی تحریک کی حمایت میں گھروں سے نکلیں''۔ان کا کہنا تھا کہ انقلاب کا سفر رُکے گا نہیں بلکہ جاری رہے گا۔
علامہ قادری نے اس الزام کو بھی مسترد کردیا ہے کہ انھیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے حکومت مخالف تحریک کے لیے کوئی رقم دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انھوں نے کوئی رقم وصول کی ہو تو انھیں پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا جائے۔
انھوں نے دوسرے شہروں میں عوامی تحریک کے زیراہتمام احتجاجی دھرنوں کے شیڈول کا بھی اعلان کردیا ہے۔اس کے تحت صوبہ خیبرپختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں جمعرات 23 اکتوبر کو پہلا دھرنا ہوگا۔محرم الحرم کے دوران احتجاجی جلسے جلوس بند رہیں گے۔اس کے بعد 23 نومبر کو بھکر ،5 دسمبر کو سرگودھا ،14 دسمبر کو سیال کوٹ اور 25 دسمبر کو کراچی میں ان کے احتجاجی جلسے ہوں گے۔
علامہ طاہرالقادری نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں 15 اگست سے دھرنا دے رکھا تھا۔اس طرح ان کا دھرنا سڑسٹھ روز تک جاری رہا ہے۔اس دوران وہ وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے مستعفی ہونے پر اصرار کرتے رہے ہیں لیکن ان کا یہ مطالبہ حکومت نے بالکل مسترد کردیا تھا۔وہ اپنی تندوتیز تقاریر میں پارلیمان کو برخواست کرنے اور پورا نظام لپیٹ دینے کے مطالبات بھی داغتے رہے تھے اور اپنے مخالفین کو جلی کٹی سناتے رہے تھے۔
دوماہ سے زیادہ عرصے تک احتجاجی دھرنے کے دوران انھیں واحد کامیابی یہ ملی تھی کہ ماڈل ٹاؤن لاہور میں 17 جون کو پولیس اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں چودہ افراد کی ہلاکت کا مقدمہ وزیراعظم میاں نوازشریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور چار وفاقی وزراء سمیت اکیس افراد کے خلاف درج کر لیا گیا تھا۔
یہ مقدمہ عدالتِ عالیہ لاہور کے حکم پر درج کیا گیا تھا۔اس پر اسلام آباد کے ریڈ زون میں یخ بستہ کنٹینر میں دھرنا دینے والے علامہ طاہرالقادری نے سخت لب ولہجے میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''اب موجودہ بحران صرف وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعلیٰ شہباز شریف کے استعفوں سے حل نہیں ہوگا بلکہ ان کو پھانسی پر لٹکایا جائے''۔انھوں نے کہا کہ شریف برادران سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمے دار ہیں اور ان دونوں بھائیوں کی منظوری کے بغیر اتنا بڑا واقعہ رونما نہیں ہوسکتا تھا۔
قائد انقلاب علامہ قادری نے اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے نام پر آمد کے بعد پہلے آب پارہ میں پڑاؤ ڈالا تھا اور بعد میں وہ عمران خان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں واقع ڈی چوک میں اُٹھ آئے تھے۔وہاں پہنچنے کے بعد سے خود کو شہادت کے لیے پیش کرتے رہے تھے لیکن اب وہ شہادت کے بغیر ہی دھرنا ختم کرکے لوٹ رہے ہیں اور اس کو اپنی بڑی کامیابی بھی گردان رہے ہیں۔ ایک مرتبہ تو انھوں نے یہ بھی کَہ دیا تھا کہ بھوک سے مرنے سے زیادہ بہتر ہے کہ اربابِ اقتدار کی گولیوں سے جان دی دے جائے۔
علامہ قادری کے دھرنا ختم کرنے سے قبل یہ افواہیں بھی گردش کررہی تھیں کہ ان کے حکومت کے ساتھ معاملات طے پا گئے ہیں اور انھوں نے اپنے شہید کارکنوں کی دیت کے نام پر حکومت سے بھاری رقم وصول کر لی ہے۔تاہم انھوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔دوسری جانب وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے وزراء اور حکمراں جماعت کے عہدے داروں کو علامہ قادری کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان سے متعلق کسی قسم کی بیان بازی سے روک دیا ہے۔
العربیہ کے ذرائع کے مطابق حکومت مخالف دھرنے کے لیے افرادی قوت مہیا کرنے والی ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جماعت انجمن وحدت المسلمین کے سربراہ علامہ ناصرعباس نے اپنے اتحادی علامہ قادری کو اسلام آباد میں احتجاجی اجتماع ختم کرنے پر آمادہ کیا ہے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کے لیے محرم الحرام اور صفر میں ماتمی مجالس میں شرکت کی وجہ سے دھرنے کو جاری رکھنا مشکل ہوگا۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر طاہرالقادری اور عمران خان کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنے والی اندرونی اور بیرونی نادیدہ قوتوں نے اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد ہاتھ کھینچ لیا تھا اور ایک طرح سے انھیں تنہا چھوڑ دیا تھا۔اس لیے ان کے لیے دھرنے کو مزید جاری رکھنا ناممکن ہوگیا تھا جبکہ ان کے دھرنے کے پیچھے کارفرما مبینہ لندن سازش بھی پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے۔اس لیے انھوں نے دھرنا ختم کرنے ہی میں اپنی عافیت جانی ہے۔
اب یہ توقع کی جارہی ہے کہ ان کے انقلابی بھائی عمران خان بھی بہت جلد ڈی چوک میں جاری اپنے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کردیں گے کیونکہ اس کے شرکاء تو پہلے ہی سمٹ سمٹا کر صرف خان صاحب کے کنٹینر تک محدود ہوچکے ہیں اور ان کے بعض کارکنان اور ہمدرد بھی انھیں دھرنا سمیٹنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔
-
علامہ طاہر القادری کے حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام
آج یومِ انقلاب کا اعلان، اہم تقریر کریں گے ،حکومت کی مذاکرات کی پیش کش
پاكستان -
اسلام آباد: ریڈ زون کی سکیورٹی فوج کے حوالے
عمران خان کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کا بھی ریڈ زون کی جانب بڑھنے کا اعلان
پاكستان -
''شریف برادران جائیں، نہیں تو دما دم مست قلندر''
آرمی چیف چار گھنٹے تک عمران خان اور طاہرالقادری کو سماعت کرتے رہے
پاكستان -
قومی اسمبلی:11 جماعتوں کا وزیراعظم پر اظہارِ اعتماد
شعلہ بیان عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کی احتجاجی ''تنہائی'' میں اضافہ
پاكستان -
لاہور میں پھر تشدد،عوامی تحریک کا کارکن ہلاک ،متعدد زخمی
علامہ طاہرالقادری نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کوکارکنوں کا قاتل قرار دے دیا
پاكستان -
علامہ طاہرالقادری کا حکومت کو نظام کی تبدیلی کے لیے تین ہفتے کا الٹی میٹم
14 جنوری کو اسلام آباد کی جانب مارچ کی دھمکی
پاكستان