داعش کا مفرور ارکان کو موت کی نیند سلانے کا طریقہ کار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

دہشت گرد تنظیم داعش اپنے دشمنوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے لیے نت نئے بدترین طریقے دریافت کرنے کے لیے مشہور ہے تاہم اس مرتبہ اختیار کیا جانے والا نیا طریقہ کار شمالی عراق کے شہر موصل کی لڑائی سے فرار ہونے والے داعش کے ہی جنگجوؤں کو موت کی نیند سلانے کے لیے ہے۔

متعدد مغربی ذرائع ابلاغ نے موصل کے اطراف میں لڑائی سے بھاگ جانے والے جنگجوؤں سے نجات حاصل کرنے کا قصہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ داعش تنظیم اپنے ان مفرور ارکان کو ایک گاڑی میں ڈال کر گاڑی کو اچھی طرح پیک کردیتی ہے تاکہ اندر ہوا داخل نہ ہوسکے۔ اس کے بعد گاڑی کے اندر گیس بھر دی جاتی ہے تاکہ اندر موجود لوگ آہستہ آہستہ موت کی نیند سوجائیں۔

امریکی ویب سائٹ "ہیرالڈ ٹریبیون" کے مطابق داعش نے معرکوں سے فرار کی کوشش کرنے والے ارکان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ان کو گاڑی میں ڈال دیا۔ اس کے بعد مکمل طور پر پیک گاڑی کے اندر زہریلی گیس پہنچائی جاتی ہے یہاں تک کہ اندر موجود تمام لوگ موت کے منہ میں چلے جائیں۔

برطانوی اخبار "دی ڈیلی میل" کے مطابق یہ پیش رفت اُس اجتماعی قبر کے ملنے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں الانبار صوبے کی لڑائیوں میں مارے جارنے والے داعش کے 200 ارکان کی لاشیں شامل تھیں۔

یاد رہے کہ عراقی فوج بغداد سے 248 میل شمال میں واقع موصل شہر کو داعش تنظیم سے واپس لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ تقریبا 20 لاکھ کی آبادی والا یہ شہر داعش تنظیم کا سب سے بڑا گڑھ سمجھا جاتا ہے جہاں سے ابوبکر البغدادی نے عراق اور شام کی وسیع علاقوں میں نام نہاد خلافت کی ریاست کا اعلان کیا تھا۔

عراقی حکومت کے سکیورٹی مشیر کے طور پر کام کرنے والے ہشام الہاشمی کے مطابق موصل شہر کو آزاد کرانے کا آپریشن ستمبر کے اواخر میں شروع کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں