سعودی استاد کے قتل کے الزام میں پانچ مشتبہ مصری گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت قاہرہ میں ایک سعودی شہری کے قتل کے الزام میں پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

سینتالیس سالہ سعودی استاد خلیل العميرينی گذشتہ منگل کے روز قاہرہ میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ان کے مشتبہ قاتلوں کی عمریں 19 سے 32 سال کے درمیان ہیں۔ان میں ایک کار گیراج کا میکینک بھی شامل ہے۔یہ گیراج مقتول سعودی کی رہائش والی عمارت کے زیریں حصے میں واقع ہے۔

مصری سکیورٹی فورسز جرائم کی جگہ پر انگلیوں اور ہاتھوں کے نشانات کے جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی تھیں کہ ان مشتبہ قاتلوں نے سعودی شہری کی ڈکیتی کی واردات کے دوران جان لی تھی اور انھوں نے مقتول کے پاس موجود 96 ہزار مصری پاؤنڈ اور چار ہزار سعودی ریال کی نقدی لوٹ لی تھی۔

ابتدائی تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ گیراج کے مالک نے اپنے دوستوں سے مل کر سعودی شہری کو لوٹنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس دوران انھیں قتل کردیا تھا۔

خلیل العميرينی قاہرہ میں واقع ایک اسکول میں استاد تھے۔ان کے قتل سے چندے قبل ان کے اعزاز میں اسکول میں منعقدہ الوداعی تقریب کی ایک ویڈیو بھی منظرعام پر آئی ہے۔وہ اس میں اپنے طلبہ اور ساتھی اساتذہ کے ساتھ نظر آرہے ہیں اور وہ انھیں الوداع کہہ رہے ہیں۔

تقریب میں ساتھی اساتذہ انھیں ایک کیک بھی دے رہے ہیں جس پر لکھا تھا: ''شکریہ خلیل ہم آپ کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں''۔ان کے قتل کی اس کہانی اور ویڈیو کی ٹویٹر پر عربی میں ایک ہیش ٹیگ کے ذریعے خوب تشہیر کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں