موصل : نئی وڈیو میں موبیلائزیشن ملیشیاؤں کا گرفتار شدگان پر تشدد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک نئی وڈیو میں عراق میں پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کی جانب سے انسانی حقوق کی مزید خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ وڈیو میں ملیشیاؤں کے ارکان کو موصل کے جنوب میں گرفتار شدگان کے خلاف تشدد اور ایذا رسانیوں کی کارروائیاں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ موصل کو آزاد کرانے کے سلسلے میں عراقی فورسز کا آپریشن 17 اکتوبر سے شروع ہوا تھا۔

عراقی پارلیمنٹ میں سکیورٹی اور دفاع کی کمیٹی کے رکن محمد الکربولی نے منگل کے روز الحدث نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں مطالبہ کیا تھا کہ نقل مکانی کرنے والوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب عناصر کو قانون کے کٹہرے میں پیش کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ متعدد عراقی فریقوں ، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں یہاں تک کہ اقوام متحدہ نے بھی پاپولر موبیلائزیشن (عراقی حکومت نواز شیعہ ملیشیاؤں) پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے 2014 سے 2016 کے درمیان فرقہ واریت کے تناظر میں داعش سے آزاد کرائے جانے والے علاقوں میں سنی شہریوں کے خلاف متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔

عراق میں سنی سیاست دانوں کے اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے کہ اسی نوعیت کے جرائم موصل میں بھی دہرائے جائیں گے جو درالحکومت بغداد کے بعد عراق کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

فلوجہ (صوبہ الانبار) میں 2016 میں "ہیومن رائٹس واچ" سمیت انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے "پاپولر موبیلائزیشن" پر الزام لگایا تھا کہ وہ داعش تنظیم کے انخلاء کے بعد کئی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے جن مین تشدد اور اغوا شامل ہیں۔ عینی شاہدین اور "پاپولر موبیلائزیشن" کی قید سے آزاد ہونے قیدیوں کے مطابق فلوجہ سے نقل مکانی کرنے والے افراد میں سے 2500 سے زیادہ کو نامعلوم جیلوں (جبری روپوشی) میں قید کیا گیا۔ ان میں درجنوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا گیا۔

الانبار صوبے کے ہی قصبے الصقلاویہ میں عراقی سنی بلاک کی جانب سے 9 جون 2016 کو جاری بیان میں "پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیاؤں کے "المحامدہ کے قتل عام" میں ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی جس میں درجنوں افراد کو موت کے گھات اتارے جانے سے قبل 600 سے زائد کو زبردستی غائب کر دیا گیا تھا۔

صلاح الدین صوبے کے شہر تکریت میں غیر سرکاری ادارے "نیشنل سینٹر آف جسٹس" نے باور کرایا تھا کہ اس کے پاس اس بات کے باوثوق دلائل ہیں کہ 2015 میں تکریت کے اندر 8 ہزار گھروں کو لوٹ مار کا نشانہ بنائے جانے کے بعد انہیں دھماکا خیز مواد کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔

ادھر دیالی صوبے کے صدر مقام بعقوبہ میں عینی شاہدین نے واضح کیا کہ "پاپولر موبیلائزیشن" سے متعلق ملیشیاؤں نے 2014 میں گھروں کو جلا کر ، زرعی اراضی اور کھیتوں کو برباد کر کے اور سنی اہلیان کو واپس گھروں کو واپس آنے سے روک کر بڑے جرائم کا ارتکاب کیا۔

"ديالى" صوبے کی قبائلی کانفرنس نے پاپولر موبیلائزیشن کے عناصر پر 2014 میں صوبے کے اندر 100 مساجد شہید کرنے کا الزام عائد کیا۔

اس کے علاوہ ہیومن رائٹس واچ تنظیم نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ "پاپولر موبیلائزیشن" ملیشیاؤں نے 2014 میں لڑائی کی وجہ سے فرار ہوجانے والے سنی شہریوں کی املاک کو لوٹ کر ان کے گھروں اور دکانوں کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ ان ملیشیاؤں نے صلاح الدین صوبے میں کم از کم دو دیہات کو تباہ کر دیا۔

تنظیم کے مطابق شناخت میں آنے والے اشاروں اور علامات کے مطابق ان ملیشیاؤں میں بدر فورس ، اہل حق بریگیڈ، عراقی حزب اللہ کے دستے اور الخراسانی بریگیڈ شامل تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں