.

دودھ فروش کا بیٹا لبنان کا صدر بننے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں 2 سال 5 ماہ قبل جنرل میشال سلیمان کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد سے صدارت کی کرسی خالی ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ نے 45 مرتبہ سلیمان کا جاں نشیں منتخب کرنے کی کوشش کی تاہم کوئی کامیابی نہ مل سکی۔ پیر کے روز اس سلسلے کی 46 ویں کوشش میں امید ہے کہ لبنان کی تاریخ میں تیسری مرتبہ ایک فوجی اہل کار کو ملک کے صدر کے طور پر منتخب کر لیا جائے گا۔ یہ شخصیت پارلیمنٹ کے 128 ارکان میں دوسری معمر ترین شخصیت 81 سالہ میشال عون ہیں۔ انتخاب کی صورت میں مشیل عون 1943 میں فرانس سے خودمختاری حاصل کرنے کے بعد لبنان کا صدر بننے والی 12 شخصیات میں سب سے بڑی عمر کے صدر ہوں گے۔ میشیل عون تین بیٹیوں کے باپ اور 10 نواسے نواسیوں کے نانا ہیں۔

میشال عون 1980ء کی دہائی میں چند سال لبنانی فوج کے کمانڈر رہے جب کہ خانہ جنگی کے زمانے میں عبوری حکومت میں ملک کے صدر کا منصب بھی سنبھالا۔ 1991 کے وسط میں وہ جلا وطن ہو کر پیرس چلے گئے اور پھر 14 برس بعد واپس لبنان لوٹے۔

غربت اور متوسط حال کے درمیان

نصرانی مذہب سے تعلق رکھنے والے میشیل عون 18 فروری 1935 کو بیروت کے جنوبی نواحی علاقے ضاحیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نعیم نے بیروت میں لیموں اور موسمی کی زراعت کا کام کیا۔ اس کے علاوہ وہ دودھ کی فروخت کا بھی کام کرتے تھے۔ میشال کی والدہ میری لبنانی نژاد امریکی تھیں جو نعیم کے چچا کی بیٹی تھیں۔ ان کے دادا 1904 میں امریکا ہجرت کر گئے تھے۔ 1935 میں میری کی شادی نعیم سے ہوگئی جب کہ اس زمانے میں نعیم کی مالی حالات غربت اور متوسط درجے کے درمیان تھے۔

نعیم اور میری کے یہاں 6 اولادیں (3 بیٹے اور 3 بیٹیاں) پیدا ہوئیں۔ ان میں سے اب صرف میشال اور ان کی دو بہنیں حیات ہیں۔

میشال کی شادی 1968 میں لبنان کے مشرقی شہر زحلہ سے تعلق رکھنے والی خاتون نادیہ سلیم الشامی سے ہوئی۔ دونوں کے یہاں 3 بیٹیاں پیدا ہوئیں جن کے نام ميرائی، وكلودين اور شانتال ہیں۔


خانہ جنگی کے زمانے کا سامنا

میشال عون نے ابتدائی تعلیم بیروت کے "الفرير" انسٹی ٹیوٹ سے حاصل کی۔ وہ عربی کے علاوہ فرانسیسی، انگریزی، ہسپانوی اور اطالوی زبانیں جانتے ہیں۔ میشال انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے تاہم مالی حالات نے اجازت نہ دی۔ انہوں نے 1955 میں 20 برس کی عمر میں فوجی ادارے میں داخلہ لے لیا اور 3 برس بعد توپ خانے کے اسلحے سے متعلق افسر بن کر فارغ التحصیل ہوئے۔ انہوں نے 1961 میں لبنانی فوج میں بطور لیفٹیننٹ شمولیت اختیار کی۔ سات برس بعد وہ کیپٹن بن گئے اور پھر 1974 میں میجر اور 1984 میں جنرل بن گئے۔ اسی سال انہیں لبنانی فوج کی قیادت دی گئی جس کے بعد ان کو خانہ جنگی کے بدترین زمانے میں دو مرتبہ خون ریز صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

1988 میں میشال عون نے سابق صدر امین الجمیل کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد ایک فوجی حکومت کی سربراہی سنبھالی تاہم فوج کی اندرونی صورت حال نے ان کے خلاف پلٹا کھا لیا۔ اس پر 1990 میں وہ پہلے تو بیروت میں فرانسیسی سفارت خانے منتقل ہوئے۔ اس کے بعد قبرص کے راستے پیرس پہنچ کر خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرلی۔ 2005 میں میشال عون کی واپسی ہوئی اور پھر انہوں نے لبنانی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی مسیحی پارلیمانی بلاک کی سربراہی سنبھالی۔ اس برس سے وہ دارالحکومت بیروت سے 10 کلومیٹر دور ایک پہاڑی علاقے کے گاؤں "رابیہ" میں مقیم ہیں۔ اگر پیر کے روز وہ میشال عون صدر منتخب ہوجاتے ہیں تو پھر وہ آئندہ 6 برسوں کے لیے بیروت کے علاقے بعبدا میں واقع قصر جمہوری میں منتقل ہو جائیں گے۔