.

عراقی کرد عربوں کے نشان زدہ مکانوں کو مسمار کررہے ہیں : ایچ آر ڈبلیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے انکشاف کیا ہے کہ عراق کے خود مختار علاقے کردستان کی سکیورٹی فورسز (البیش المرکہ) نے داعش سے قبضے میں لیے گئے علاقوں میں بڑی تعداد میں عرب باسیوں کے مکانوں کو غیر قانونی طور پر مسمار کردیا ہے۔بعض جگہوں پر کرد فورسز نے پورے پورے گاؤں ہی کو ملیامیٹ کر دیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو نے کرد فورسز کی چیرہ دستیوں سے متعلق اپنی 80 صفحات کو محیط ایک رپورٹ جاری کی ہے۔اس کا عنوان''نشان زدہ ایکس :عراقی کرد فورسز کے ہاتھوں داعش کے ساتھ تنازعے میں دیہات اور مکانوں کی تباہی'' ہے۔اس میں دو شمالی صوبوں کرکوک اور نینویٰ کے متنازعہ علاقوں میں ستمبر 2014ء سے مئی 2016ء تک مکانوں کی تباہی کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔

تنظیم کی مشرق وسطیٰ میں ڈپٹی ڈائریکٹر لاما فقیہ کا کہنا ہے کہ ''خاندانوں کو زبردستی ان کے مکانوں سے نکال باہر کرنا اور انھیں گلیوں اور ملک کے غیرمحفوظ علاقوں کی جانب دھکیل دینا ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے عراق میں سیاسی اتصال واستحکام میں کوئی مدد نہیں ملے گی''۔

ایچ آر ڈبلیو کو کرد فورسز کے ہاتھوں عربوں کے مکانوں کی مسماری کے دوران فلمائی گئی ایک ویڈیو بھی ملی ہے۔عراق کے شمالی شہر کرکوک کے ایک علاقے سے جون میں عربوں کو نکال باہر کیا گیا تھا اور پھر 23 سے 25 اکتوبر تک ان کے مکانوں کو ڈھا دیا گیا تھا۔