.

اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف 11 عرب ممالک کا شکوہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کو ارسال کیے جانے والے ایک خط میں 11 عرب ممالک نے خطے میں ایران کی توسیعی پالیسیوں کے جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں یمن کے تنازع میں ایرانی کردار کی بھی مذمت کی گئی جہاں وہ حوثیوں باغیوں کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں کو بڑی تعداد میں اسمگل بھی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 71 ویں سیشن کے سربراہ پیٹر تھومسن کو خط ارسال کرنے والے ممالک میں خلیج تعاون کونسل کے چھ رکن ممالک کے علاوہ مصر ، اردن ، مراکش ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ اس خط کو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے درماین بھی تقسیم کیا گیا ہے۔

"ایران دہشت گردی کا سرپرست"

خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایران دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست ہے۔ وہ لبنان اور شام میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کے علاوہ بحرین ، عراق ، سعودی عرب ، کویت اور دیگر ممالک میں دہشت گرد جماعتوں اور گروپوں کو سپورٹ کرتا ہے۔

یمن میں عرب اتحاد کے حوالے سے ایرانی وفد کے رکن کے اعتراض کے جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ "عزم کی آندھی" آپریشن یمن کی آئینی حکومت کی جانب سے خلیج تعاون کونسل اور عرب لیگ میں کیے جانے والے مطالبے پر شروع کیا گیا۔

خط پر دستخط کرنے والے ممالک نے آبنائے باب المندب میں اماراتی بحری جہاز پر حوثیوں کے حملے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا۔

یکساں عرب موقف

ادھر امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور محمد قرقاش نے باور کرایا ہے کہ اقوام متحدہ میں اجتماعی سفارتی تحریک درحقیقت ایرانی دعوؤں کے حوالے سے متحدہ عرب موقف اور مطلوبہ مشترکہ عرب عمل ہے جس سے ہمارے موقف کو تقویت ملتی ہے۔

قرقاش نے ہفتے کے روز " ٹوئیٹر" پر اپنے بیان میں کہا کہ "خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک ، مصر ، مراکش ، سوڈان ، اردن اور یمن کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے جنہوں نے جنرل اسمبلی کے نام مشترکہ خط ارسال کیا تاکہ ایرانی دعوؤں کا بر وقت جواب دیا جا سکے"۔