بشار الاسد کی ملیشیاؤں اور قریبی افسران کا گونج دار اسکینڈل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی صدر بشار الاسد سے تعلق رکھنے والی ملیشیا "صقور الصحراء" کے کمانڈر محمد جابر کا کہنا ہے کہ ملیشیا کے ارکان نے یقینی طور پر حلب میں بشار حکومت کے زیر کنٹرول آجانے والے علاقوں میں مختلف نوعیت کی چوری کی کارروائیاں کیں۔ مذکورہ ملیشیا کو ایران سے تربیت اور مالی رقوم ملتی ہے اور اس کے روس سے قریبی تعلقات ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز شامی صدر کے ہمنوا ایک عرب سیٹلائٹ چینل کے نمائندے نے ایک شامی ریڈیو چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اُن شامی سرکاری حکام کے ناموں کا انکشاف کیا جنہوں نے حلب میں بشار کی فوج کے زیر کنٹرول آنے والے علاقوں میں شہریوں کے گھروں میں چوریوں کا ارتکاب کیا۔

چینل کے نمائندے کے مطابق حلب میں ان چوری کی کارروائیوں میں صقور الصحراء اور "درع الامن العسكری" ملیشیاؤں کے عناصر ، بشار الاسد کے ایک انتہائی قریبی فوجی افسر کرنل سہیل الحسن سے تعلق رکھنے والے عناصر ، علی الشلہ کے نام سے معروف ایک مقامی سرغنہ شامل ہیں۔

نمائندے کے مطابق ان "مافیاؤں" کو مکمل سپورٹ اور تحفظ حاصل ہے اور کوئی ان کے نام لینے کی جرات بھی نہیں کر سکتا۔ نمائندے کے بیان کے نتیجے میں اسے متعدد جانبوں سے قتل کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔

مذکورہ شامی ریڈیو چینل نے صقور الصحراء ملیشیا کے کمانڈر سے جو اس وقت روس میں مقیم ہے رابطہ کیا اور اس کے عناصر کے ہاتھو حلب کے شہریوں کے گھروں میں اور املاک کی چوریوں کی تصدیق چاہی۔ اس پر کمانڈر نے ان کارروائیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کے روز روس سے واپسی پر حلب شہر میں اس نمائندے سے ملاقات کرے گا۔

یاد رہے کہ ذاتی املاک اور گھروں میں چوری کی کارروائیاں ان تمام علاقوں میں دیکھنے میں آ رہی ہیں جہاں شامی اپوزیشن کی فورسز کے نکل جانے کے بعد بشار کی سرکاری فوج کا کنٹرول ہوجاتا ہے۔ اس نوعیت کی چوریوں کا سب سے مشہور واقعہ کچھ عرصہ قبل دمشق کے نواحی علاقے "داريا" میں پیش آیا۔ شامی حکومت کے عناصر نے علاقے کے مکینوں کو زبردستی ہجرت پر مجبور کیا اور گھروں میں اعلانیہ طور پر چوری کی کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس حوالے سے بشار الاسد کے قریب شمار کیے جانے والے ایک میڈیا پرسن وسام الطیر نے اپنے فیس بک پیج پر بتایا کہ درحقیقت بشار الاسد کی ملیشیاؤں کے عسکری وردیوں میں ملبوس ارکان علاقے میں "جنگ کا مالِ غنیمت" بٹورنے کی کارراوئیوں میں مصروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں