.

سعودی شہری کی 41 برس بعد مصری استاد سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ اگر لگن سچی ہو تو انسان بالآخر اپنی منزل کو پا لیتا ہے۔ یہ ہی نتیجہ سعودی شہری عبداللہ قہار کی کہانی کے اختتام پر بھی سامنے آیا جو 41 برس اپنے مصری استاد کی تلاش میں سرگرداں رہا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ نے بتایا کہ اس نے اپنے استاد تک پہنچنے کے لیے مدد کے واسطے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ٹیلی گرام بھیجنے کے بارے میں بھی سوچا تھا۔ تاہم آخرکار اللہ کے فضل سے "فیس بک" اور اپنے استاد کے ایک دوست امین مسلوب کے ذریعے عبداللہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا۔

عبداللہ قہار کے مطابق وہ 41 برس بعد اپنے محترم استاد سے مل کر مسرت کے ناقابل بیان جذبات سے سرشار ہے۔ عبداللہ نے سعودی عرب سے اپنی اہلیہ سے بھی فوری طور پر مصر آنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ بھی اپنے شوہر کے بچپن کے استاد کو دیکھے۔ عبداللہ نے اپنے مذکورہ استاد سے ہی پڑھنا لکھنا اور نماز اور قرآن کو سیکھا۔ استاد نے عبداللہ کی تربیت اپنے بیٹوں کی طرح کی اور وہ بھی اپنے استاد کو والد کی حیثیت دیتا ہے۔ عبداللہ کا کہنا ہے کہ اب وہ مستقل طور پر استاد سے رابطہ رکھے گا اور سال میں دو مرتبہ ملاقات کے لیے مصر آیا کرے گا۔

عبداللہ قہار کا کہنا ہے کہ مصر میں غیرملکیوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کے علاوہ اغوا اور چوری کی کارروائیوں کے حوالے سے جو باتیں مشہور ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں۔ اس نے باور کرایا کہ مصر پہنچنے پر بطور سعودی شہری اس کو ہر طرف سے محبت اور پیار ملا۔

عبداللہ نے مزید بتایا کہ وہ جتنے عرصے اپنے مصری استاد کے گھر مقیم رہا ، روزانہ سیکڑوں مصری اس کو خوش آمدید کہنے کے واسطے ملاقات کے لیے آتے۔

عبداللہ قہار نے جو پہلی مرتبہ مصر کا دورہ کر رہا ہے بتایا کہ وہ جنوبی مصر کے باسیوں (صعایدہ) کے اخلاق اور عادات سے بہت متاثر ہوا جب کہ الاقصر اور جنوبی مصر کے دیگر شہروں کی خوب صورتی نے اس کو مبہوت کر ڈالا۔