مصر : ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم
مصر کی ایک اعلیٰ اپیل عدالت نے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی ہے۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں قائم ایک فوجداری عدالت نے ڈاکٹر محمد مرسی اور ان کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے بعض سینیر عہدے داروں کو ایران اور فلسطینی تنظیم حماس کے لیے جاسوسی کے الزام میں قصور وار قرار دے کر لمبی قید کی سزائیں سنائی تھیں۔ ان کے وکیل عبدالمنعم عبدالمقصود نے بتایا ہے کہ اپیل عدالت نے منگل کے روز اپنے فیصلے میں ان سب کو سنائی گئی سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں۔
27 نومبر کو یہی عدالت ڈاکٹر مرسی کو سنائی گئی عمر قید کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل کا بھی جائزہ لے گی۔انھیں قاہرہ کی ایک عدالت نے قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات چُرانے اور انھیں قطر کے حوالے کرنے کے الزام میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
اسی مقدمے میں عدالت نے الجزیرہ ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے دو ملازمین سمیت چھے افراد کو مصر کی قومی سلامتی سے متعلق دستاویزات قطر کو دینے کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی۔انھوں نے مبینہ طور پر ڈاکٹر محمد مرسی کے مختصر دور صدارت میں یہ دستاویزات قطر اور دوحہ میں قائم الجزیرہ ٹی وی نیٹ ورک تک پہنچائی تھیں۔
واضح رہے کہ اسی اپیل عدالت نے حال میں ڈاکٹر مرسی کے خلاف سنائی گئی پھانسی کی تمام سزائیں کالعدم قرار دے دی ہیں اور اب انھیں تختہ دار پر لٹکانے کا کوئی خدشہ نہیں رہا ہے۔البتہ انھیں جاسوسی اور دوسرے مقدمات میں سنائی گئی قید کی لمبی سزائیں برقرار ہیں اور وہ اس وقت جیل کاٹ رہے ہیں۔
یاد رہے کہ مصر کی مسلح افواج کے سربراہ (موجودہ صدر) عبدالفتاح السیسی نے قاہرہ اور دوسرے شہروں میں احتجاجی مظاہروں کے بعد ڈاکٹر محمد مرسی کو 3 جولائی 2013ء کو صدارت سے معزول کردیا تھا اور انھیں گرفتار کرکے پس دیوار زنداں کردیا گیا تھا۔