.

روس کا ایران کو جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے ٹیکنیکل ملٹری کوآپریشن کے امور کے نائب سربراہ ولادیمر کوجن نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ تہران پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے سبب فی الوقت ایران کو جارحانہ ہتھیاروں کی فروخت ممکن نہیں ہے۔

جرمن ویب سائٹ ڈوئچے ویلے نے روسی میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ نائب سربراہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ایران جارحانہ ہتھیاروں کی خریداری کے لیے کئی بار روس سے درخواست کر چکا ہے تاہم " فی الوقت ہم جارحہ ہتھیاروں کی فروخت کے لیے تہران سے مذاکرات نہیں کریں گے.. بین الاقوامی پابندیاں ابھی تک ایران پر عائد ہیں جو اسے مذکورہ نوعیت کے ہتھیار فراہم کرنے سے روکتی ہیں"۔

اقوام متحدہ کی قرارداد 2231 ایران کو جدید ترین اسلحہ فروخت کرنے سے روکتی ہے۔

دو ہفتے قبل روس کی دفاعی کمیٹی کے سربراہ وکٹر آئزوروف نے اعلان کیا تھا کہ ماسکو اور تہران 10 ارب ڈالر مالیت کی اسلحہ ڈیل پر مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایرانی وزیر دفاع حسین دہقان نے ہفتے کے روز بیان میں کہا کہ ان کا ملک اپنی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے روسی ساخت کے سوخوی 30 لڑاکا طیارے خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ "روس سے کسی بھی نوعیت کے فوجی طیاروں کی خریداری میں مشترکہ ٹکنالوجی اور سرمایہ کاری شامل ہوگی"۔ دہقان نے کے مطابق روس نے مذاکرات میں اس امر کو قبول کر لیا۔