حلب میں اعلانِ جنگ بندی کے باوجود بم دھماکے اور طوائف الملوکی
شام کے شمالی شہر حلب میں جنگ بندی کے آغاز کے بعد بم دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔شہر کے مشرقی حصے میں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور باغی جنگجوؤں اور شہریوں کے انخلاء کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔
ترک وزیر خارجہ مولود شاوس اوغلو نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی فورسز اور دوسرے گروپوں کے درمیان حلب سے شہریوں اور باغیوں کے انخلاء کے لیے سمجھوتا طے پانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
درایں اثناء شامی باغیوں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر نے اطلاع دی ہے کہ صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے حلب کے مشرقی حصے پر دوبارہ گولہ باری شروع کردی ہے جبکہ شامی کارکنان نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایرانی ملیشیا نے حلب کے علاقوں الانصاری ،السکر اور المشہد میں شہریوں پر بم حملے کیے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ حلب کے مختلف حصوں سے گولہ باری کی آوازیں سنی جاسکتی ہیں۔البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ حملے کون کررہا ہے۔
شام نیوز نیٹ ورک کی اطلاع کے مطابق حلب سے مکینوں کے انخلاء کا عمل جمعرات تک مؤخر کر دیا گیا ہے۔قبل ازیں شیڈول کے مطابق بدھ کی صبح سے ان کا انخلاء ہونا تھا۔فوری طور یہ واضح نہیں ہوا کہ شہریوں کو شہر سے بہ حفاظت نکالنے میں کیوں تاخیر کی گئی ہے۔تاہم یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں ایران کی قیادت میں شیعہ ملیشیا نے روس اور ترکی کے درمیان حلب کے بارے میں طے شدہ سمجھوتے کو مسترد کردیا ہے۔
دوسری جانب روس نے مشرقی حلب سے شہریوں کے انخلاء کی تصدیق کی ہے لیکن حزب اختلاف نے اس کی تردید کردی ہے۔روس کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران میں قریباً چھے ہزار شہریوں اور تین سو چھیاسٹھ جنگجوؤں کا مشرقی حلب سے انخلاء ہوا ہے لیکن شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ اب تک کسی جنگجو یا شہری نے مشرقی حلب کو نہیں چھوڑا ہے۔
روس اور ترکی کے جنگ بندی کے اعلان کے مطابق جبھۃ الفتح الشام ( النصرۃ محاذ) سمیت تمام جنگجو مشرقی حلب کو خالی کر کے جا سکتے ہیں لیکن شامی کارکنان حلب کے علاقے میں موجود ایرانی ملیشیا کی تخریبی سرگرمیوں کی اطلاعات دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایرانی شیعہ جنگجو شہریوں کو لے جانے کے لیے آنے والی بسوں کو حلب کے مختلف علاقوں سے باہر نکلنے سے روک رہے ہیں۔