.

آستانہ مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی اپوزیشن کی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن نے قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے والی بات چیت میں شرکت کے لیے اپنی شرائط کا اعلان کر دیا ہے۔ ان میں اہم ترین شرط فائر بندی کے جائزے کے لیے مبصرین کا بھیجا جانا ہے۔ ادھر ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ انقرہ اور ماسکو شام کے حوالے سے قازقستان میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا کی شرکت کی ضرورت پر متفق ہو گئے ہیں۔

آستانہ بات چیت کی تیاریوں کے سلسلے میں ماسکو نے اعلان کیا ہے کہ آستانہ بات چیت میں تنازع کے فریقوں کے درمیان براہ راست مکالمہ شروع ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اپنے طور پر مذکورہ مذاکرات کے لیے سپورٹ کا اظہار کیا ہے۔

روس اور ترکی کی سرپرستی میں آستانہ بات چیت سے دس روز قبل تک تنازع کے فریقوں یا اقوام متحدہ کو سرکاری طور پر کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے۔

ماسکو میں "العربیہ" کے نمائندے نے روسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روسی وزارت خارجہ رواں ماہ کی چھبیس اور ستائیس تاریخ کو ماسکو میں شامی اپوزیشن کی شخصیات کو اکٹھا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ آستانہ اجلاس اور فروری میں متوقع آئندہ جنیوا بات چیت کے درمیان عبوری مرکز بن جائے۔