.

امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے نزدیک ایران داعش سے زیادہ خطر ناک !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی قومی سلامتی کے موجودہ مشیر مائیک فلن کے ایک سابق ٹی وی انٹرویو کا ان دنوں چرچا ہو رہا ہے۔ مارچ 2015 میں فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے ایران کو داعش تنظیم سے زیادہ خطر ناک قرار دیا تھا۔

فلن نے امریکی دفاع کی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کا منصب سنبھالا ہوا تھا تاہم 2014 میں وہ سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے ساتھ شام کی صورت حال اور ایران کے ساتھ نمٹنے کے طریقہ کار کے حوالے سے اختلافات کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

فوکس نیوز کو انٹرویو میں فلن نے کہا کہ ایران اُس خطے میں امریکا کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا خطرہ ہے اور وہ اپنے بیلسٹک میزائلوں کو جدید بنانے کے سبب عالمی سطح پر خطرہ بن رہا ہے۔

گزشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی کی حیثیت سے مائیک فلن نے ایران کے بیلسٹک میزائل تجربے کی شدید مذمت کی تھی اور اسے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے لیے چیلنج شمار کیا تھا۔ فلن کے مطابق سابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ ایران کی تکلیف دہ کارروائیوں کا مناسب طور جواب دینے میں ناکام رہی۔

فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں مائیک فلن نے باور کرایا کہ دہشت گردی سے نمٹا جا سکتا ہے تاہم ایران کے حوالے سے ہم چاہتے ہیں کہ وہ عراق سے چلا جائے تاکہ اس ملک اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانے میں مدد مل سکے۔ فلن کا کہنا تھا کہ ابھی تک ایرانی قیادت اس طرح معاملہ کر رہی ہے گویا کہ وہ عراق کے بعض معرکوں میں میدانی قیادت کی حیثیت رکھتی ہے۔ عراق میں ہونے والی بہت سی کارروائیوں کی ذمے داری ایران پر عائد ہوتی ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر ایران کو عراق کا پورا کنٹرول حاصل ہوگیا تو کیا وہ داعش تنظیم سے بڑا مسئلہ ثابت ہوگا۔ مائیک فلن کا کہنا تھا " میں ایسا ہی سمجھتا ہوں ، یہ بات میں قطعی طور پر کہہ رہا ہوں"۔

فلن نے مزید کہا کہ " میرے خیال میں وہ مکمل غلبہ چاہتے ہیں۔ ان کا خود کے بارے میں یہ نقطہ نظر ہے کہ وہ اسلام کی حقیقت اچھی طرح سے جانتے ہیں لہذا انہیں پورے خطے کو کنٹرول کرنا چاہیے"۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے اپنے حالیہ بیان میں باور کرایا کہ ایران کی کارروائیاں خطے میں عدم استحکام پیدا کر رہی ہیں اور ان سے امریکیوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔