سوڈان میں تنازع، کیا ولی کی اجازت کے بغیر شادی جائز ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان میں ان دنوں ایک آئینی ترمیم کے منصوبے کے حوالے سے شدید تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں نوجوان لڑکا اور لڑکی قانونی عمر کو پہنچنے کے بعد ولی کی اجازت کے بغیر شادی کر سکیں گے۔

سوڈان میں 2005 کے آئین میں مجوزہ ترمیم کو بحث کے لیے جنوری میں پارلیمنٹ میں پیش کر دیا گیا تھا۔ اس میں آزادی عامہ ، سیاسی اور جماعتی سرگرمیوں اور خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق قانونی مواد شامل ہے۔ تاہم شادی کے حوالے سے شامل تجاویز سماجی سطح پر متنازع شکل اختیار کر گئی ہیں۔

سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر سرگرم حلقوں میں یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا سوڈان میں نوجوان اس ترمیم کو قبول کریں گے یا مکمل طور پر مسترد کر دیں گے۔ موجودہ طریقہ کار میں ولی اور گواہوں کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔

سوڈان میں اکثر شادیاں روایتی طریقے سے انجام پاتی ہیں جہاں نوجوان پہلے اپنے گھر والوں کے ذریعے لڑکی کا رشتہ مانگتا ہے اور پھر نسبت طے ہونے یعنی "منگنی" کا مرحلہ آتا ہے۔ یہ منگنی بعض حالات میں کئی سال تک جاری رہتی ہے۔ اس دوران فریقین شادی کی تیاریاں مکمل کرنے کے لیے مالی حالات سازگار ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ اس کے بعد آخرکار نکاح اور شادی انجام پاتی ہے۔ بہت ہی نادر حالات میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی وجہ سے فریقین میں سے کوئی ایک جانب کے بزرگ رشتے کو مسترد کر دیتے ہیں تو پھر لڑکا اور لڑکی کورٹ میرج کا راستہ اپناتے ہیں۔

سوڈان میں اسلامی فقہ اکیڈمی کے سربراہ ڈاکٹر عصام احمد البشیر نے گزشتہ جمعے کے روز دارالحکومت خرطوم کے نواحی علاقے کافوری میں نمازِ جمعہ کے بیان میں اس متنازع تجویز کو یکسر طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ولی کی مرضی کے بغیر محض باہمی رضامندی کے ذریعے شادی اسلامی شریعت کے خلاف ہے اور یہ آئینی ترمیم سماجی اقدار کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔

سوڈان میں موجودہ اقتصادی صورت حال نے سماجی زندگی پر بہت سے اثرات مرتب کیے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے کی بعض اقدار اور روایتوں میں تبدیلی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

گزشتہ ہفتے سوڈانی پارلیمنٹ میں مذکورہ مجوزہ ترمیم پر بحث ہوئی جس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے۔

کچھ عرصہ قبل ہونے والی قومی مکالمہ کانفرنس میں ملک کے مستقبل کے حوالے سے سیاسی ، اقتصادی اور سماجی موضوعات زیر بحث آئے تھے۔ کانفرنس کے اختتامی اعلامیے میں یہ بھی باور کرایا گیا تھا کہ " قانونی طور پر مقررہ عمر تک پہنچنے کے بعد باہمی رضامندی سے شادی جائز ہے خواہ وہ براہ راست ہو یا پھر وکیل کے ذریعے"۔ ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے لفظ "براہ راست" کا معنی یہ لیا گیا کہ اس سے مراد " شادی میں ولی کے کردار کا خاتمہ" ہے۔ تاہم ڈاکٹر عصام احمد نے حدیث مبارک کی بنیاد پر اس کو مسترد کر دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں