.

عراقی فورسز کا موصل ائیرپورٹ اور فوجی اڈے پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی سکیورٹی فورسز نے شمالی شہر موصل کے داعش کے زیر قبضہ مغربی حصے میں واقع ائیرپورٹ اور اس کے نزدیک ایک فوجی اڈے پر جمعرات کی صبح دھاوا بولا ہے۔

عراق کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق دہشت گردی مخالف سروس (سی ٹی ایس) کے فوجیوں اور وزارت داخلہ کی سریع الحرکت فورس نے علی الصباح ہوائی اڈے اور اس کے نزدیک واقع غزلانی ملٹری کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔

سی ٹی ایس کے ترجمان صبح النعمان نے بتایا ہے کہ ’’ہماری افواج نے آج صبح داعش کے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کے لیے موصل ائیرپورٹ اور غزلانی بیس میں ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی۔ ہم اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں کہ موصل کا ہوائی اڈا فوجی لحاظ سے ہمارے قبضے میں آ چکا ہے اور اب اس پر مکمل کنٹرول بہت تھوڑے وقت کا معاملہ رہ گیا ہے‘‘۔

عراقی فورسز نے گذشتہ ماہ موصل کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا اور اب وہ ہوائی اڈے پر قبضہ کرکے اس کو شہر کے مغربی حصے میں موجود داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

یادرہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے جون 2014ء سے موصل کے ہوائی اڈے اور اس فوجی کمپلیکس پر قبضہ کررکھا ہے۔اس کمپلیکس میں فوجی بیرکیں ،دفاتر اور تربیتی مقاصد کے لیے میدان بھی ہیں اور یہ موصل اور بغداد کے درمیان شاہراہ پر واقع ہے۔

اگر موصل پر قبضہ ہوجاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی عراقی علاقے میں داعش کی خود ساختہ خلافت کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ داعش کے خلاف موصل کی بازیابی کے لیے جاری اس لڑائی میں عراقی فوج ،کرد فورسز اور شیعہ ملیشیاؤں کے ایک لاکھ سے زیادہ جنگجو حصہ لے رہے ہیں۔

عراقی فوج کو داعش کے خلاف اس مہم میں امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد حاصل ہے۔اس نے اس سال کے آغاز کے بعد سے بڑی تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور داعش کے زیر قبضہ بہت سے علاقوں کو چھڑوا لیا ہے اور وہاں عراقی پرچم لہرا دیا ہے۔