دی میستورا سے ملاقات ماضی کی نسبت امید افزاء رہی:اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنیوا میں شام کےبحران کے حل کے سلسلے میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شامی اپوزیشن کے وفد نے اقوام متحدہ کے امن مندوب اسٹیفن دی میستورا سےگذشتہ روز اہم ملاقات کی ہے۔ حزب اختلاف نے اس ملاقات کی ماضی کی تمام ملاقاتوں کی نسبت زیادہ امید افزاء قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کے وفد کے سربراہ نصر الحریری نے جنیوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اسٹیفن دی میستورا سے شام کے بحران کے حوالے سے دو اہم یاداشتیں پیش کی تھیں۔ ایک یاداشت میں شام میں المناک انسانی صورت حال اور دوسری میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے واقعات کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

اقوام متحدہ کے امن مندوب نے ان دونوں یاداشتوں پر مثبت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نصر الحریری نے کہا کہ ہم کئی روز سے یہاں جنیوا میں امن بات چیت کے لیے موجود ہیں مگر ابھی تک ہمیں ایسا کوئی حقیقی شریک مذاکرات نہیں ملا جس کے ساتھ شام میں قیام امن کے لیے کھل کر بات کی جائے۔

شام میں امدادی کارکنوں کی نمائندگی کرتے ہوئے’سفید ہلیمٹ‘ والی فلم کو آسکر ایوارڈ ملنے کو مسئلہ شام کے شاندار فتح قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ شام میں دیر پا قیام امن کے خواہاں ممالک کو چاہیے کہ وہ ملک میں حقیقی سیاسی عمل کے آغاز کے لیے شامی حکومت پر دباؤ ڈالیں۔

نصر الحریری نے کہا کہ آج منگل کو ان کی ملاقات روسی وفد کے ساتھ بھی ہو رہی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ یہ ملاقات بھی شامی قوم کے لیے سود مند ثابت ہوگی اور ہم اس ملاقات میں بھی اپنا موقف کھل کر پیش کریں گے۔

شامی حزب اختلاف کے رہ نما نے روس پر زور دیا کہ وہ ایران نواز ملیشیاؤں کو کنٹرول کرنے میں مدد دیں تاکہ شام میں حقیقی امن کا آغاز کیا جاسکے۔ اپوزیشن مسئلے کے سیاسی حل کے لیے ہرقابل عمل تجویز کو قبول کرنے اور اس پرعمل درآمد کو تیار ہے

ادھر دوسری جانب العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے مندوب کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں شامی حکومت کے بیان کی تردید کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں