.

البغدادی کِن 3 مقامات پر روپوش ہو سکتا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں داعش تنظیم کے آخری بڑے گڑھ موصل شہر کے مغربی حصے کو آزاد کرانے کے لیے عسکری آپریشن کے آغاز کے بعد سے اب تک تنظیم کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے انجام پر پُراسراریت کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل عراق کے علاقے القائم میں البغدادی کے زخمی ہوجانے سے متعلق کئی خبریں موصول ہوئی تھیں۔ اس کے بعد داعش تنظیم کی ہمنوا بعض ویب سائٹوں پر البغدادی کی پرانی تقریریں اور بیانات نشر کیے گئے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے ساتھ گفتگو میں موصل شہر کے اندر موجود ذرائع نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ داعش تنظیم کی قیادت اپنے اہل خانہ کے ساتھ مغربی موصل سے صحراء کی جانب فرار ہو چکی ہے اور اس وقت موصل میں تنظیم کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت اور غیر ملکی جنگجو لڑائی میں مصروف ہیں۔

جہاں تک ابوبکر البغدادی کا تعلق ہے تو موصل کے اندر سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اُسے شہری گاڑیوں پر مشتمل ایک بڑے قافلے میں دیکھا گیا جس میں مسلح عناصر کی نمائش نہیں کی گئی تھی۔ یہ قافلہ مغربی موصل کے قلب سے نکل کر صحراء کی جانب کوچ کر گیا۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق داعش کے سربراہ نے 3 مرتبہ موصل کا دورہ کیا مگر وہ ہر گھنٹے بعد اپنی جگہ تبدیل کر لیتا تھا۔ اس کے قافلے میں کسی سواری میں موبائل فون یا کوئی بھی ایسا آلہ نہیں رکھا گیا جس کے ذریعے تعاقب کا اندیشہ ہو یا اسے نشانہ بنایا جا سکے۔

غالب گمان کے مطابق البغدادی صحراء کی جانب کوچ کر گیا ہے۔ ایسے میں وہ کئی مقامات کا رُخ کر سکتا ہے :

* ان میں پہلی جگہ صحراء نینوی ہے جہاں مغرب کی سمت سے وہ شام یعنی الرقہ جا سکتا ہے۔

* دوسری جگہ صحراء انبار ہے جہاں سے وہ القائم کے راستے اردن کی سرحد کی جانب جا سکتا ہے اور پھر وہاں سے اردن کی سرحد پر صحراء نخیب منتقل ہو سکتا ہے۔

* اس حوالے سے آخری جگہ موصل کے جنوب میں واقع صحراء ہے جہاں سے وہ دو صوبوں صلاح الدین اور دیالی کے درمیان علاقے مطيبيجہ جا سکتا ہے۔

تنظیم کے حکمت عملی پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ داعش کا سربراہ اور جنگجو "حلقوں" کے طریقہ کار کا سہارا لیتے ہیں۔ حلقہ چند افراد کا مجموعہ ہوتا ہے جن کا ایک کمانڈر ہوتا ہے۔ یہ افراد انفرادی حلقہ تشکیل دیتے ہیں جس کا کمانڈر دوسرے حلقے کے کمانڈر کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے۔ اگر اتفاقیہ طور پر کسی بھی رکن پر قابو پا لیا جاتا ہے تو وہ بقیہ ارکان کو نہیں جان سکتا۔

تاہم موصل کے اندر ذرائع کا کہنا ہے کہ تنظیم کے غیرملکی اور عرب عناصر ابھی تک موصل کے محلوں میں پائے جاتے ہیں۔ وہ فرار ہونے یا شہر سے نکل جانے کو مسترد کر ررہے ہیں۔ ان لوگوں کا شہریوں سے کہنا ہے کہ وہ "جہاد" کے لیے آئے ہیں اور ہر گز فرار نہ ہوں گے۔

بہرکیف اہم ترین پہلو یہ ہے کہ البغدادی بین الاقوامی اتحاد اور اسی طرح عراقیوں کے لیے ابھی تک ٹیڑھی کھیر ثابت ہوا ہے۔