.

مصر: تارکینِ وطن کی کشتی کے حادثے میں ملوّث 56 افراد کو جیل کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں ایک عدالت نے گذشتہ سال تارکین وطن کی ایک کشتی ڈوبنے کے حادثے میں ملوّث چھپن افراد کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔کشتی کے اس حادثے میں دو سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کے عدالتی ذرائع کے مطابق عدالت نے اتوار کے روز چھپن مدعا علیہان کو قصور وار قرار دے کر سات سے چودہ سال تک جیل کی سزائیں سنائی ہیں اور ایک عورت کو برّی کردیا ہے۔

غیرملکی تارکین سے کھچا کھچ بھری ہوئی کشتی 21 ستمبر 2016ء کو مصر کی ساحلی حدود میں بحر متوسط میں الٹ جانے سے ڈوب گئی تھی۔امدادی کارکنان اور مچھیروں نے ڈوبنے والے ایک سو انہتر افراد کو زندہ بچا لیا تھا جبکہ دو سو دو ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔افریقی ممالک سے یورپ جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کی کسی کشتی کو پیش آنے والا یہ ایک الم ناک حادثہ تھا۔

عدالت نے اس واقعے کے الزام میں ستاون افراد پر فرد جرم عاید کی تھی اور انھیں دو سو دو افراد کی ہلاکت، مناسب حفاظتی آلات نہ رکھنے ، انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے ،متاثرین سے رقوم وصول کرنے، مشتبہ افراد کو حکام سے چھپانے اور بغیر لائسنس کشتی چلانے کے الزامات میں قصور وار قرار دیا تھا۔

یہ کشتی مصر کے شمالی صوبے بحیرہ میں ایک گاؤں برج رشید کے نزدیک بحر متوسط میں ڈوبی تھی۔اسی جگہ دریائے نیل بحر متوسط میں گرتا ہے۔اس کشتی پر مصری ،سوڈانی ، ایریٹرین اور صومالی تارکین وطن سوار تھے اور وہ پُر خطر بحری سفر کرکے اٹلی کی جانب جارہے تھے۔

یادرہے کہ گذشتہ سال یورپ جانے کی کوشش میں ریکارڈ پانچ ہزار تارکین وطن بحرمتوسط میں کشتیوں کے حادثات میں ڈوب مرے تھے۔ان میں سب سے بدترین حادثہ اپریل میں مصر کی ساحلی حدود میں پیش آیا تھا اور مچھیروں کی ایک کشتی الٹ جانے سے پانچ سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔