شامی حزب اختلاف کا بشارالاسد سے پھر اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شامی حزب اختلاف نے ایک مرتبہ پھر صدر بشارالاسد سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی اقتدار سے رخصتی کے بغیر جنگ زدہ ملک میں سیاسی تصفیہ ممکن نہیں ہے۔

شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکرات کمیٹی کے سربراہ ناصرالحریری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے شام کے لیے نائب ایلچی رمزی عزالدین رمزی سے جنیوا میں ملاقات کی ہے اور اس کے بعد کہا ہے کہ’’ ہم نے عبوری دور کے لیے سیاسی انتقال اقتدار اور آئینی اعلامیے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔اس تمام کی تفصیل ہماری دستاویزات میں بیان کی گئی ہے۔مجھے امید ہے کہ یہ بات چیت آیندہ دنوں میں بھی جاری رہے گی‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ملاقات کے آغاز میں ہم نے حزب اختلاف کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ سیاسی انتقال اقتدار کا اہم پہلو صدر بشارالاسد اور شامی عوام کے خلاف جرائم میں ملوث عہدہ داروں اور حکام کی اقتدار سے دستبرداری ہے‘‘۔

واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف ملک میں دہشت گردی کو مسترد کر چکی ہے اور وہ کالعدم جنگجو گروپوں کے بارے میں بھی اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرچکی ہے۔تاہم شامی حزب اختلاف کی ایک مذاکرات کار بسمہ قدمانی کا اتوار کے روز کہنا تھا کہ اگر اسد حکومت عوام کو محاصرہ زدہ علاقوں سے بے دخل کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو پھر ان جنگجو گروپوں کو کارروائیوں سے نہیں روکا جا سکتا۔

صدر بشارالاسد کی حکومت گذشتہ چھے سال سے اپنے خلاف جنگ آزما تمام مزاحمتی گروپوں کو بلا تمیز دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ ان دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے لیے ہی جنگ لڑرہی ہے اور اس میں روس ،ایران اور شیعہ ملیشیائیں اسدی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑرہی ہیں۔اس جنگ میں اب تک تین لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور لاکھوں شامی بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں