شامی حکومت نے ادلب میں قتلِ عام کیا: ڈونلڈ ٹرمپ

بشار الاسد حکومت اقتدار میں رہنے کا جواز کھو چکی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں کیمیائی فضائی حملے میں دسیوں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے اور بشار الاسد حکومت کو اس قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ادلب میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد بشارالاسد کا اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ شامی قوم بشارالاسد کو اقتدار میں قبول کرنے سے انکار کر دیں۔

وائٹ ہاوّس کے ترجمان شون سبایسر نے ادلب میں کیمیائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس فی الوقت شام میں حکومت کی تبدیلی کا کوئی آپشن زیرغور نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ایک ایسا حملہ جس میں بچوں اور خواتین کا قتل عام کیا گیا انتہائی شرم ناک ہے۔انھوں نے کہا کہ ادلب میں اسد رجیم کا انتہائی وحشیانہ حملہ سابقہ امریکی انتظامیہ کے کمزور فیصلوں اور براک اوباما کی عاقبت نا اندیش پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ سابق صدر براک اوباما کوئی بھی کام کرنے سے قبل صرف ’سرخ لکیر‘ کھینچنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے تھے۔

قبل ازیں واشنگٹن نے بشارالاسد کو مشرقی الغوطہ میں وحشیانہ حملوں پر سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج پر بھی متنبہ کیا تھا۔ واضح رہے کہ 21 اگست 2013ء کو مشرقی الغوطہ میں کیمیائی حملے کے نتیجے میں سیکڑوں عام شہری جاں بحق ہوگئے تھے جس کے بعد امریکا اور روس کے درمیان معاہدے کے تحت اسد رجیم اپنے کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔

سبایسر نے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ادلب میں تازہ کیمیائی حملے کی شدید مذمت کے ساتھ ساتھ اس پر ردعمل کے اظہار کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہا ہے۔ یہ حملہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔

ترجمان نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ ہم شام میں کیا کریں گے مگر ادلب حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں شام کی موجودہ صورت حال اور ادلب حملے پر غور کیا گیا۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار نے ’رائیٹرز‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ادلب حملے کے شواہد جمع کر رہے ہیں۔ اگر یہ حملہ واقعی کیمیائی ہتھیاروں سے کیا گیا ہے جیسا کہ لگتا ہے تو اسے جنگی جرم قرار دیا جائے گا۔ حکومتی عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ داعش کی شکست کے لیے بشار الاسد کے ساتھ تعاون خارج از امکان ہے۔ ایسی کوئی بھی تجویز زیرغور نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں