.

بشار کی ملیشیائیں "سرکاری طور پر" براہ راست ایران کے زیرِ قیادت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کے سربراہ بشار الاسد نے اپنے مفاد میں لڑنے والی ملیشیاؤں کو براہ راست ایرانی قیادت کے تحت کر دینے کی منظوری دی اور اس حوالے سے سرکاری طور پر مخصوص تحریر پر دستخط بھی کیے۔

اس سے قبل بشار حکومت کے وزیر دفاع نے تجویز پیش کی تھی کہ "ایرانی جانب کے ساتھ کام کرنے والی فورسز کو شامی صوبوں میں مقامی دفاع کی ذمے دار افواج کے ساتھ منظم کیا جائے"۔ یہ انکشاف شامی اپوزیشن کی ویب سائٹ "زمان" کو موصول ہونے والے ایک دستاویز میں ہوا۔

مؤرخہ 4 اپریل 2017 کے اس دستاویز کا نمبر 1455 ہے اور بشار الاسد نے 11 اپریل 2017 کو اس پر دستخط کر کے منظوری دی۔

دستاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ شامی حکومت کے چیف آف اسٹاف اور وزیر دفاع نے 5 اپریل کو اسے منظور کیا۔

شامی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے دستاویز کی پانچویں شِق میں کہا گیا ہے کہ "صوبوں میں ایرانی جانب کے ساتھ کام کرنے والی مقامی دفاعی افواج کی قیادت ایرانی جانب کے پاس ہی رہے گی"۔ شِق کے مطابق یہ عمل شامی فوج کی کوآرڈی نیشن سے ہوگا۔

دستاویز کی پانچویں شِق ایران کو ان تمام عسکری ٹکڑیوں کا کنٹرول فراہم کرتی ہے جن کو شامی حکومت نے "مقامی دفاع کی افواج" کا نام دیا۔ یہ اصطلاح بشار حکومت کی افواج کے زیر انتظام آنے والی تمام ملیشیاؤں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

دستاویز میں "عوامی فوج" کے نام سے ایرانی جانب کے حوالے کیے جانے والے عناصر کے حوالے سے اعداد و شمار بھی شامل ہیں۔