.

یمن : حنوط شدہ لاشیں بھی جنگ سے محفوظ نہ رہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں بھوک اور بیماریوں نے زندہ انسانوں کی زندگی تو اجیرن کر ہی رکھی ہے مگر دو سال سے جاری جنگ نے مُردوں پر بھی رحم نہیں کھایا۔

دارالحکومت صنعاء کی مرکزی جامعہ میں شعبہ آثار قدیمہ کے عجائب خانے کے اندر موجود حنوط شدہ لاشیں تحلیل ہونا شروع ہو گئیں ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ بجلی کا کا منقطع ہونا اور لاشوں کو محفوظ کرنے والے مواد کی عدم دستیابی ہے جو بیرون ملک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ مذکورہ جامعہ پر حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کا قبضہ ہے۔

شیشے کے بکسوں میں نمائش کے لیے رکھی گئی حنوط شدہ لاشوں کی تعداد 12 ہے اور ان کا تعلق یمن میں 2500 برس قبل عروج پانے والی بُت پرست تہذیب سے ہے۔

جامعہ میں شعبہ آثار قدیمہ کے سربراہ عبدالرحمن جار اللہ نے بتایا کہ " اس وقت درپیش سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حنوط شدہ لاشیں تحلیل ہو رہی ہیں اور ان کو جراثیم لگ رہے ہیں۔ ہمارے پاس بجلی نہیں ہے.. حنوط شدہ لاشوں کے لیے ماحول کا تحفظ کرنے والے آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور بعض آلات ہمارے پاس نہیں ہیں۔ ہمارے پاس کیمیائی مواد ہے جس کے ذریعے ہر چھ ماہ بعد لاشوں کو جراثیم سے پاک کرنا نا گزیر ہے تاہم ملک کے موجودہ اقتصادی حالات میں اس مواد کا حصول انتہائی دشوار ہو گیا ہے"۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول صنعاء شہر بجلی کے شدید بحران سے دوچار ہے جس کے نتیجے میں حنوط شدہ لاشوں کے ہال میں نمی کو ختم کرنے والا نظام کمزور پڑ چکا ہے۔

آثار قدیمہ کی پروفیسر عمیدہ شعلان نے حنوط شدہ لاشوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "حالیہ جنگ کی وجہ سے بہت سے مقامات تباہ ہو گئے۔ تاریخی شہر بھی برباد ہو چکے ہیں۔ ہمارے پاس اب یہ محفوظ اشیاء باقی رہ گئی ہیں جن کی حفاظت کرنا ہم پر لازم ہے"۔