پاکستان اور غزہ کے بعد "آگ کے ساتھ" بال کاٹنے کا رجحان مصر میں
مصر کے دارالحکومت قاہرہ کے جنوبی علاقے میں واقع ایک ہیئر سیلون میں بالوں میں آگ بھڑکا کر حجامت بنائی جاتی ہے۔ سیلون کے مالک محمد حنفی عرُف محمد الخواجہ نے ایشیا کے دوسرے ممالک میں اس طریقہ کار کو دیکھا تھا جس کے بعد اس نے بال کاٹنے کا یہ خطرناک طریقہ مصر میں متعارف کرا دیا۔
محمد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ وہ یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر روزانہ بال کاٹنے سے متعلق جدید ترین رجحانات اور فیشن کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ اس نے یوٹیوب پر ایک پاکستانی حجام کی وڈیو دیکھی جو اپنے گاہکوں کے بالوں میں آگ بھڑکا کر ان کو کاٹتا ہے۔ محمد کو یہ انکشاف بھی ہوا کہ مذکورہ طریقہ کار غزہ کے بعض ہیئر سیلون میں بھی رائج ہو چکا ہے۔ اس کے بعد محمد پر بال کاٹنے کے اس طریقے کو سیکھنے کی دُھن سوار ہو گئی اور وہ جان گیا کہ اس طریقہ کار کا راز آگ اور بالوں کے درمیان حرارتی محدودیت thermal insulation)) میں پوشیدہ ہے۔ یہ ہی وہ عامل ہے جو بال کاٹنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے اور آگ کو بالوں سے دور رکھتا ہے تا کہ وہ جل نہ جائیں۔
محمد کا کہنا ہے کہ وہ اس طریقہ کار کو صرف بالوں کو سیدھا (کھڑا) کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بالوں کو آگ لگانے والے طریقہ کار سے بال پورے ایک ماہ تک سیدھے رہتے ہیں.. جب کہ عام طریقے سے بال صرف دو ہفتوں تک سیدھے رہتے ہیں۔ محمد کے مطابق آگ کے ساتھ بالوں کو کاٹنے کے نرخ کم از کم 40 مصری پاؤنڈ 2.25 ڈالر اور زیادہ سے زیادہ 80 مصری پاؤنڈ 4.5 ڈالر تک ہوتے ہیں۔ نرخوں کے مختلف ہونے کا تعلق بالوں کی کیفیت اور کوالٹی سے ہوتا ہے۔