.

کیا حمزہ بن لادن القاعدہ کے آیندہ لیڈر ہوں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے بانی لیڈر اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ بن لادن کا ایک نیا صوتی پیغام منظرعام پر آیا ہے۔یہ ان کے والد کی 2 مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز کی کارروائی میں ہلاکت کی چھٹی برسی کے گیارہ روز بعد جاری کیا گیا ہے لیکن ا س نئے پیغام میں برسی کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔

البتہ اس میں ’’مغرب میں شہادت کے خواہاں القاعدہ کے کارکنوں کے لیے کچھ نصیحت‘‘ ہے۔حمزہ نے القاعدہ کے پیروکاروں سے کہا ہے کہ’’ وہ از خود ہی حملے کریں اور دشمن کو اس کے تصور سے بھی زیادہ نقصان پہنچائیں‘‘۔

یہ آڈیو پیغام جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے سربراہ قاسم الریمی کے ایک ویڈیو پیغام کے چند روز بعد جاری کیا گیا ہے۔انھوں نے بھی القاعدہ کے پیروکاروں سے یہ کہا تھاکہ ’’ وہ تنہا جہادی ‘‘ حملے کریں۔

یہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ ہی ہے جس نے اس طرح کےتنہا حملوں کا آغاز کیا تھا۔امریکی فوج کے ایک میجر ندال حسن نے ٹیکساس میں 2009ء میں ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا اور امریکی فوج کے تیرہ اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔

لیکن اس معاملے میں داعش زیادہ کامیاب رہی ہے۔الریمی اور حمزہ کے پیغامات شاید اس مہم کا حصہ ہوسکتے ہیں جو وہ داعش کی دوبارہ جگہ لینے کے لیے کررہی ہے۔

داعش کی جانب سے گذشتہ دو سال کے دوران میں جاری ہونے والے پیغامات سے واضح ہے کہ وہ داعش کے عروج کے بعد سے اسامہ بن لادن کے ورثے کو بچانے اور محفوظ رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔

القاعدہ گذشتہ پندرہ سال کے دوران میں مالی اور عملی طور پر بہت کمزور ہوئی ہے۔اس کی بڑی وجہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی سرگرمیوں کی غرض سے استعمال ہونے والی رقوم کی روک تھام کے لیے اقدامات ہیں۔اس پر مستزاد افغانستان ، پاکستان اور یمن میں القاعدہ کے لیڈروں پر مسلسل حملے ہیں۔

اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد سےتنظیم کے داخلی ڈھانچے کو بہت نقصان پہنچ چکا ہے۔ یہ یقین کیا جاتا ہے کہ آج کی القاعدہ زیادہ غیر مرکزیت کا شکار ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر ایمن الظواہری ایسا سست الوجود اس کا لیڈر ہے۔ان کے مسلسل روپوش رہنے کی وجہ سے اس گروپ کی کمزوریوں میں اور اضافہ ہوا ہے۔

القاعدہ کی مقامی شاخیں اور ذیلی تنظیمیں اپنے اپنے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ایمن الظواہری کا ان پر کوئی اثر ورسوخ نہیں ہے۔جیسا شام کا النصرۃ محاذ ہے۔اس نے القاعدہ سے اپنا ناتا توڑ لیا تھا ۔اس کا اب یہ دعویٰ ہے کہ وہ القاعدہ کے نظریے ہی کی حامل ایک آزاد اور مقامی تنظیم ہے۔

جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی توجہ صرف یمن تک محدود ہے۔یہ اور بات ہے کہ اس نے مغرب ، امریکا اور فرانس میں حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔

حمزہ بن لادن اپنے بیشتر صوتی پیغامات میں یہ کہہ چکے ہیں کہ ایمن الظواہری ان کے امیر ہیں۔اس سے وہ یہ بھی پیغام دیتے ہیں کہ ظواہری ہی ان کے والد کے حقیقی جانشین ہیں اور القاعدہ کی تمام شاخوں کو انھیں ایسا ہی سمجھنا چاہیے۔

یہ ممکن ہے کہ حمزہ بن لادن نے ڈاکٹر ایمن الظواہری کی رضا مندی ہی سے یہ پیغامات جاری کیے ہوں۔اس سے تو پھر یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ اول الذکر موخر الذکر کے زیر اثر ہے۔یوں ایمن الظواہری حمزہ بن لادن کی القاعدہ کے آیندہ لیڈر کے طور پر تربیت کررہے ہیں۔

حمزہ نے2015ء کے بعد سے اپنے بہت سے آڈیو پیغامات جاری کیے ہیں۔ان میں زیادہ تر میں وہ اپنے والد ہی کی طرح گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔وہ ان ہی کی طرح مختلف ایشوز پر اسی لب ولہجے اور جملوں میں تقریر کرتے ہیں۔ وہ اپنے والد کے بہت قریب رہے تھے۔شاید وہ ان کی اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے تربیت کررہے تھے لیکن صرف القاعدہ کے بانی کا بیٹا ہونے کے ناتے سے انھیں ایمن الظواہری کی موت کی صورت میں امارت نہیں مل جائے گی بلکہ دوسرے سینیر لیڈر بھی قیادت کے لیے اس قطار میں لگے ہوئے ہیں۔