.

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دہائی تک اس مقام پر مصروفِ عمل رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہم میں سے بہت کم لوگ اس مقام کو جانتے ہیں جہاں اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام نے نبوّت ملنے اور فرعون کی جانب بھیجے جانے سے قبل زندگی گزاری۔ اس مقام کا دورہ کرنے والے یا اس کے بارے میں معلومات رکھنے والے لوگ بھی بہت کم ہیں۔ واضح رہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قصہ قرآن کریم میں مختلف مقام اور شخصیات کے ناموں کے ساتھ بیان ہوا ہے۔

اس مقام کی اہمیت کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام کے سُسر اور اللہ کے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کے نام کے ساتھ پوشیدہ ہے۔ یہاں پر واقع کندہ پہاڑ اُس جاوِداں کہانی کے گواہ ہیں جو بحیرہ احمر کے نزدیک تاریخی حیثیت سے مالامال علاقوں میں سے ایک علاقے یعنی "البدع" صوبے میں پیش آئی۔

اس صوبے میں مذکورہ تاریخی مقام سعودی عرب کے شہر تبوک سے 225 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" یہاں اس غارِ شعیب کا ذکر کر رہی ہے جہاں اللہ کے نبی اور اس کے کلیم موسیٰ علیہ السلام نے ایک دوسرے نبی حضرت شعیب علیہ السلام کی دامادی میں آ کر اپنی زوجہ کا مہر ادا کرتے ہوئے تقریبا ایک دہائی کا عرصہ گزارا۔ بعد ازاں حضرت موسیٰ فرعون اور بنی اسرائیل کو دین کی دعوت دینے کے لیے مصر لوٹ گئے۔

غارِ شعیب ابھی تک اپنی پرانی صورت میں باقی ہے۔ سعودی عرب کی شاہ سعود یونی ورسٹی میں شعبہ آثاریات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد العبودی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مذکورہ مقام "مدائنِ صالح" کے مقام سے زیادہ پرانا ہے۔

العبودی کے مطابق یہ مقام ، اس کا نام اور یہاں موجود تاریخی اثاثے اُن امور کا بہت بڑا ثبوت ہیں جو کچھ موسیٰ اور شعیب علیہما السلام کے قصے میں قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر العبودی نے بتایا کہ یہ مقام اہم تاریخی زاویے کا حامل ہے۔تاہم اس کو بڑے تحقیقی پیمانے پر زیرِ مطالعہ نہیں لایا گیا۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی اس کو زیادہ توجہ نہیں ملی۔

اگرچہ "مدائن صالح" اور "غارِ شعیب" تعمیراتی لحاظ سے ملتے جلتے ہیں۔تاہم بہت سے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ دونوں مختلف مقامات ہیں اور ان کے درمیان 400 کلومیٹر کا فاصلہ پایا جاتا ہے۔

موسی اور شعیب علیہما السلام کا قصّہ

العبودی کے مطابق اس مقام پر قرآن میں مذکورہ حضرت شعیب علیہ السلام اور ان کی دونوں بیٹیوں کا قصّہ منطبق ہوتا ہے اور ایسی کوئی دوسری جگہ نہیں جہاں قرآن کی روشنی میں ان واقعات کا وقوع ثابت ہو سکے۔ قرآن کریم کی آیات میں اس پورے قصے کو بہت تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں ایک قِبطی کے ہلاک ہونے کے بعد مدین کی جانب پیدل سفر کیا تھا۔

سمندر عبور کرنے کے دوران وہ مدین کے نزدیک رُکے اور وہاں کچھ لوگوں کو کنویں سے پانی بھرتے ہوئے دیکھا۔ اس دوران دو لڑکیاں ان تمام لوگوں سے دُور اپنی باری آںے کا انتظار کر رہی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی بھرنے میں دونوں لڑکیوں کو اپنی مدد کی پیش کی۔ لڑکیوں نے واپس آ کر اپنے والد "شعیب" علیہ السلام کو پورے واقعے سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کو بدلہ دینے کے واسطے بُلا لیا۔ ملاقات ہونے پر حضرت شعیب علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دیانت اور کردار سے بہت متاثر ہوئے اور ان سے اپنی ایک بیٹی کی شادی کر دی۔ مہر کے طور پر موسیٰ علیہ السلام نے طے پائے گئی مدت یعنی آٹھ سے دس برس حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس خدمت میں گزارے۔

العبودی نے مزید بتایا کہ جزیرہ نما عرب کا شمال مغربی حصّہ تاریخی اور آثاریاتی مقامات کے بڑے رازوں کا حامل ہے اور ان مقامات کا کوئی شمار نہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ "ان میں سے بہت سے رازوں کا ابھی تک انکشاف نہیں ہوا ہے"۔

مستشرقین کی غارِ شعیب پر گفتگو

بہت سے سیاحوں اور مستشرقین نے اپنے سفرناموں اور کتب میں غارِ شعیب کے مقام کا ذکر کیا ہے۔ ان میں عرب دنیا کے امور کے معروف ماہر "جان فِلبی" شامل ہیں جو "عبداللہ فِلبی" کے نام سے بھی معروف ہیں۔ فِلبی نے غارِ شعیب کے مقام کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کو حضرت موسیٰ اور حضرت شعیب علیہما السلام کے قصے کے ساتھ جوڑا ہے۔