.

حزب اللہ اور ایران کے شانہ بشانہ شام میں حوثی کمانڈر کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار الاسد کی خونی حکومت کی حمایت میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کے شانہ بشانہ شامی عوام کے خلاف لڑتے ہوئے یمنی حوثی باغیوں کا ایک اہم کمانڈر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

یمنی خبر رساں ویب سائٹوں نے منگل کے روز بتایا کہ حوثی کمانڈر محمد الورافی کا تعلق یمن کے صوبے عمران سے ہے اور وہ شام کے شہر تدمر میں لڑائی کے دوران حزب اللہ اور پاسداران انقلاب کے کئی ارکان کے ساتھ مارا گیا۔ حوثی کمانڈر کی ہلاکت کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔

باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ حوثی کمانڈر الورافی اس گروپ میں شامل تھا جس کو حوثی ملیشیا نے 2014 کے اواخر میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ کی سپورٹ کے لیے شام بھیجا تھا تا کہ وہ شامی عوامی انقلابی تحریک کے خلاف بشار الاسد کی لڑائی میں شامی صدر کی مدد کر سکے۔

ذرائع نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا کے درجنوں عناصر فرقہ ورانہ وجوہات کی بنا پر شام میں ایران اور حزب اللہ کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

یاد رہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے کمانڈروں اور مسلح عناصر بالخصوص جن کو شام میں لڑنے کے لیے بھیجا گیا ہے.. ان کی ہلاکت کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ میڈیا ذرائع حوثیوں کے جانی نقصان کا اندازہ درجنوں میں لگاتا ہے جب کہ باغی ملیشیا نے اس موضوع پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔