.

فتح موومنٹ کے ساتھ مصالحت.. حماس غزہ کی انتظامیہ سے دست برداری پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں مصر کا دورہ کرنے والے حماس تنظیم کے وفد نے مصری ذمے داران کو بتایا ہے کہ تنظیم کچھ عرصہ قبل قائم کی جانے والی اُس انتظامی کمیٹی کو تحلیل کرنے پر آمادہ ہے جس نے غزہ پٹی کے انتظامی امور کو سنبھالا ہوا ہے۔

یہ بات حماس کے ایک ذمے دار نے منگل کو فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتائی۔ ذمے دار کے مطابق تنظیم نے صدر محمود عباس کے ساتھ مصالحت کی بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے پر بھی اپنی رضامندی کا اظہار کیا ہے۔

مذکورہ ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ حماس چاہتی ہے کہ قومی یک جہتی کی حکومت فلسطینی داخلی بحرانات کو حل کرے اور صدارتی اور قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے راہ ہموار کرے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حماس تنظیم اتنے واضح طور پر اپنی انتظامی کمیٹی تحلیل کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ تنظیم نے رواں برس مارچ میں غزہ پٹی کے امور کے لیے ایک سات رُکنی خصوصی "انتظامی کمیٹی" تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس کے اثر کے طور پر فلسطینی اتھارٹی نے بعض تدابیر اختیار کیں۔ رامی الحمد اللہ کی سربراہی میں فلسطینی حکومت نے جولائی میں ایک فیصلے کے ذریعے غزہ پٹی میں اپنے 6 ہزار سے زیادہ ملازمین کو قبل از وقت ریٹائر کر دیا۔ ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کو بجلی کی فراہمی کے سلسلے میں بل کی ادائیگی روک دی اور غزہ پٹی میں اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کمی کر دی۔

منگل کو حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے سیاسی دفتر کے سبربراہ اسماعیل ہنیہ نے گزشتہ روز مصر میں جنرل انٹیلی جنس کے سربراہ خالد فوزی سے ملاقات کی۔ اس موقع پر حماس کے وفد نے باور کرایا کہ تنظیم فوری طور پر قاہرہ میں فتح موومنٹ کے ساتھ بات چیت کے دور کے لیے تیار ہے تا کہ معاہدہ طے پایا جائے اور اس پر عمل درامد کا طریقہ کار متعین کیا جائے۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ قومی یک جہتی کی حکومت تشکیل دینے کے مقصد سے ضروری اقدامات کیے جائیں تا کہ پھر یہ حکومت مغربی کنارے، غزہ پٹی اور بیت المقدس میں فلسطینی عوام کے حوالے سے اپنی ذمے درایاں سنبھالیں۔

غزہ پٹی کی بیس لاکھ کے قریب آبادی انسانی اور اقتصادی بحرانات سے دوچار ہے جن کے نتیجے میں اقوام متحدہ یہ کہنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ غزہ پٹی آئندہ تین برسوں کے دوران رہنے کے قابل جگہ نہیں رہے گی۔ حماس تنظیم نے 2007 میں غزہ پٹی پر کنٹرول حاصل کر کے اس کے انتظامی امور کو خود سنبھال لیا تھا۔

رواں سال 7 مئی کو حماس کے سیاسی دفتر کا سربراہ منتخب ہونے کے بعد اسماعیل ہنیہ کا قاہرہ کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں اندرون و بیرون حماس تنظیم کے اہم رہ نما ان کے ہمراہ ہیں۔