.

موصل میں "الخمينی" کے نام سے اسکول کا افتتاح شدید تنازع کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں کئی سیاسی شخصیات کی جانب سے خبردار کیا جا چکا ہے کہ ملک میں ایرانی "سرائیت" کے خطرناک اور دُور رس اثرات سامنے آئیں گے خواہ یہ عسکری ملیشیاؤں کو مسلح کرنے کے حوالے سے ہو یا دیگر راستوں سے۔ تاہم مذکورہ انتباہات کے باجود "اشتعال انگیزیوں" کا سلسلہ جاری ہے۔

اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت میں گزشتہ ہفتے شمالی عراق کے شہر موصل کے نواحی علاقے برطلہ میں ایک اسکول کا افتتاح کیا گیا جس کا نام "امام خمينی" ہے۔ اسکول کے اس نام کو سرگرم کارکنان اور ذمے داران نے شہر کے باسیوں کے لیے "اشتعال انگیز" قرار دیا ہے۔

نینوی صوبے میں وزارت تعلیم میں لڑکوں کے اسکول ڈائریکٹر حسین حامد کا کہنا ہے کہ یہ اسکول کاغذات میں مدرسہ الزاہراء کے نام سے موجود ہے تاہم حقیقتا یہ "امام خمینی" کے نام پر باقی ہے۔

حامد نے ترک خبر رساں ایجنسی کو بتایا مذکورہ اسکول ایران کے خرچے پر بنایا گیا ہے اور اس میں 10 کلاسوں کی جگہ ہے۔ اسکول کا افتتاح جمعرات کے روز اربیل شہر میں ایرانی قونصل جنرل مرتضی عبادی کے ہاتھوں ہوا۔

برطلہ کے علاقے میں کرد لہجہ رکھنے والی اقلیت الشبک ، سنی ، شیعہ اور مسیحی آبادی رہتی ہے اور ان میں سے ہر اقلیت دوسری پر شہر کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کا الزام عائد کرتی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر سرگرم حلقوں نے اسکول کے نام پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنی حیرت اور اعتراض کا اظہار کیا ہے۔
نینوی صوبے کے سابق گورنر اثیل النجیفی نے برطلہ میں "خمینی" کے نام سے ایک اسکول کے افتتاح کو شہریوں کے لیے ایک نیا اشتعال انگیز اقدام شمار کیا ہے۔