عراق کا کردستان سے سرحدی ٹھکانے اور ہوائی اڈے حوالے کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کی حکومت نے کردستان ریجن کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سرحدی ٹھکانوں اور ہوائی اڈوں کو بغداد حکومت کے حوالے کر دے۔ یہ مطالبہ کردستان کی خود مختاری سے متعلق اُس ریفرنڈم کے جواب میں سامنے آیا ہے جس کا انعقاد کردوں کی جانب سے آج پیر کے روز شمالی عراق میں کیا جا رہا ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بغداد حکومت نے دوسرے ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ کردستان کے ساتھ تیل کی تجارت روک دیں اور ہوائی اڈوں اور سرحدوں کے حوالے سے معاملات مرکزی حکومت کے ساتھ کریں۔
عراقی کردستان کی تیل کی اوسط پیداوار یومیہ 6 لاکھ بیرل ہے جس میں سے 5.5 لاکھ بیرل جیہان کی بندرگاہ کے ذریعے ترکی کو برآمد کر دیا جاتا ہے۔

تیل کی اس پیداوار میں یومیہ تقریبا 2.5 لاکھ بیرل کرکوک کی آئل فیلڈز سے حاصل ہوتا ہے جو سرکاری طور پر کردستان ریجن کے زیر انتظام نہیں ہے۔ تاہم کردوں نے 2014 میں داعش تنظیم کی جانب سے موصل اور دیگر علاقوں پر کیے جانے والے بڑے حملے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان آئل فیلڈز پر قبضہ کر لیا تھا۔

اگر ترکی نے جیہان کی بندرگاہ کے ذریعے تیل کے عبور کو روک دینے کا فیصلہ کر لیا تو یہ اقدام کردستان کی معیشت کا گلا گھونٹ سکتا ہے۔

اس سے پہلے عراقی وزیراعظم العبادی یہ کہہ چکے ہیں کہ عراقی عوام ایسے فیصلے کو مسترد کرتے ہیں جو عراق کی وحدت اور خطے کے امن و استحکام کو نقصان پہنچائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کردستان کے زیادہ تر مسائل بغداد کے ساتھ نہیں بلکہ اندرونی ہیں اور ریفرنڈم کے بعد ان میں اضافہ ہو جائے گا۔

ادھر عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی نے ریجن میں ریفرنڈم کے حوالے سے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "ہماری آئندہ ریاست مذہبی نہیں بلکہ شہری جمہوریت ہو گی"۔ انہوں نے باور کرایا کہ وہ ریفرنڈم کے حوالے سے کسی بھی قسم کی دھمکی آمیز زبان کو مسترد کرتے ہیں۔ بارزانی کے مطابق یہ ریفرنڈم محض پہلا اقدام ہے جس کے بعد ایک طویل کارروائی ہو گی۔ کردستان کے صدر کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم خود سے کسی عسکری تنازع کے بارے میں ہر گز نہیں سوچ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں