’کردستان سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی آپشن موجود ہیں‘

ریفرنڈم کے بعد حکومت تمام ضروری اقدامات کرے گی: بغداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کرانے والے صوبہ کردستان کے خلاف سیاسی اور اقتصادی آپشن موجود ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ہفتے کے روز بغداد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں حیدر العبادی کے ترجمان سعد الحدیثی نے کہا کہ بغداد اربیل کے خلاف آزادی ریفرنڈم کے بعد تمام ضروری اقدامات کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ بغداد کے پاس اربیل سے نمٹنے کے لیے سیاسی اور اقتصادی آپشن موجود ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الحدیثی کا کہنا تھا کہ ہم ریفرنڈم کے بعد پیدا ہونے والے بحران کو فوجی طاقت کے ذریعے حل کرنے پرغور نہیں کررہے ہیں۔ ہمارے پاس فوجی آپشن سے قبل سیاسی ، تجارتی اور اقتصادی آپشن بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کردستان کے ساتھ بات چیت کا واحد راستہ صرف عراق کی وحدت کا اقراراور عراقی دستور پر عمل درآمد ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بغداد حکومت کی طرف سے کردستان کی صوبائی حکومت کو بار بار کہا جاتا رہا ہے کہ وہ عراقی دستور کااحترام کرتے ہوئے اس پرعمل درآمد کرائے مگر ان مطالبات کا کوئی خاطر خواہ اثر نہیں ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعد الحدیثی نے کہا کہ ملک کے آئین میں کردستان سمیت کسی صوبے کی علاحدگی کے لیے ریفرنڈم کا کوئی جواز نہیں۔ کردستان میں گذشتہ 25 ستمبر کو ہونے والے ریفرنڈم کی کوئی آئینی حیثیت نہیں۔ اربیل کا موقف غیرآئینی ہے اور اس طرح کے اقدامات آنے والے بحران کے حل میں مدد گار نہیں ہوسکتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں