بارزانی ریفرینڈم کے نتائج معطل کرنے پر آمادہ ہو گئے : بغداد حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراقی صدر کے نائب اسامہ النجیفی کا کہنا ہے کہ کردستان ریفرینڈم کا فیصلہ درست نہیں تھا اور یہ یک طرفہ طور پر کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کردستان کے صدر کے ساتھ بات چیت کے اختتام پر مسعود بارزانی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کردستان پر سے پابندیاں اٹھائے جانے اور بات چیت شروع کرنے کے مقابل وہ ریفرینڈم کے نتائج معطل کر دیں گے۔

کردستان ریفرینڈم کے بحران کے اثرات بغداد اور اربیل میں پورے شدّ و مد کے ساتھ جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر سلیم الجبوری اور عراقی صدر کے نائب اسامہ النجیفی نے موجودہ دراڑ کو بھرنے کے لیے کردستان کا دورہ کیا ہے۔

دوسری جانب کردستان ایوانِ صدر میں سیاسی مشیر ہیمن ہورامی نے اپنی ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "بارزانی نے الجبوری کو آگاہ کر دیا ہے کہ کردستان بغداد میں مرکزی حکومت کے ساتھ پیشگی شرائط کے بغیر بات چیت کے لیے تیار ہے"۔

بغداد حکومت نے اپنے ترجمان کی زبانی کردستان حکومت کے ساتھ آئندہ کسی بھی بات چیت کے لیے یقین دہانیوں کا مطالبہ کیا ہے۔

البتہ پارلیمنٹ میں شیعہ اتحاد نے اسپیکر سلیم الجبوری کے اربیل کے دورے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مایوس کن قرار دیا ہے۔

ادھر عراق کے نائب صدر نوری المالکی نے جارحانہ لہجے اختیار کرتے ہوئے ریفرینڈم کے نتائج کے منسوخ کیے جانے سے قبل کردستان کے ساتھ کسی بھی بات چیت کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں