کردستان کے خلاف جنگ برسوں جاری رہ سکتی ہے : ایران کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی فوج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری نے عراقی کردستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر خود مختاری ریفرینڈم کے نتائج نافذ کیے گئے تو ایسی صورت میں شروع ہونے والی جنگ برسوں تک جاری رہ سکتی ہے۔

ایرانی حکومت کی خبر رساں ایجنسی "اِسنا" کے مطابق جمعرات کے روز اپنے خطاب میں باقری کا کہنا تھا کہ اس ریفرینڈم کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کھڑے ہیں۔ باقری نے استفسار کیا کہ "شمالی عراق کے عوام خود مختاری سے کیا چاہتے ہیں ؟"۔

باقری کے مطابق "یہ لوگ اپنی سرزمین پر سیادت چاہتے ہیں وہ ابھی ان کے پاس ہے۔ یہ لوگ فوج چاہتے ہیں وہ ان کے پاس ہے۔ یہ لوگ مال چاہتے ہیں تو وہ بھی تمام عراقی عوام سے زیادہ ان کے پاس موجود ہے۔ ان کے پاس وہ سب کچھ ہے جو وہ چاہتے ہیں"۔

یادر ہے کہ ایران اور ترکی یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر کردستان ریفرینڈم کے نتائج کو نافذ کرنے اور عراق سے علاحدہ ہونے کے اصرار پر ڈٹا رہا تو اُس کے خلاف عسکری کارراوئی کی جائے گی۔

اس سے قبل ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای نے سابقہ بیانات میں ترکی اور ایران سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کردستان کو خود مختاری کا اعلان کرنے سے روک دیں۔ بدھ کے روز تہران میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ملاقات کے بعد خامنہ ای کا کہنا تھا کہ "امریکا اور دیگر غیر ملکی طاقتیں کردستان کے ریفرینڈم کی سپورٹ کے ذریعے خطے میں ایک نیا اسرائیل قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں"۔

گزشتہ ماہ 25 ستمبر کو مذکورہ ریفرینڈم کے بعد ایران نے عراقی کردوں پر جنگ مسلط کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں اس نے اپنی فضائی حدود اور کردستان کے ساتھ اپنی زمینی سرحدوں کو بھی بند کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ تہران نے ایرانی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی کرد جماعتوں کے پائے جانے کے بہانے سرحدی علاقوں پر بم باری بھی کی ہے اور علاقے میں عراقی فوج کے ساتھ مشترکہ عسکری مشقیں بھی کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں