.

حزب اللہ لبنان میں ہلاکتوں کی نئی لہر لا سکتی ہے : سابق وزیر انصاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے سابق وزیر انصاف اشرف ریفی نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک خود پر ایرانی غلبے کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کا منصوبہ خیالی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر پورا نہیں ہو گا۔

ہفتے کے روز الحدث نیوز چینل کے ساتھ گفتگو میں لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے مستعفی ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے ریفی نے کہا کہ اگر لبنان میں حزب اللہ کا منصوبہ ڈگمگاہٹ کا شکار ہوا تو اس کی جانب سے ہلاکتوں کی نئی کارروائیوں پر عمل درامد خارج از امکان نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حزب اللہ اور ایران لبنان پر غلبہ نہیں پا سکیں گے۔

دوسری جانب لبنانی فورسز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ انطوان زہر کا کہنا ہے کہ لبنان عرب ممالک کے امن کی تباہی میں ایران کی گزر گاہ نہیں بنے گا۔ ہفتے کی شام الحدث نیوز چینل سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سعد الحریری کا استعفاء باوقار مزاحمت کی حیثیت رکھتا ہے۔

ادھر لبنانی وزیر خارجہ جبران باسیل نے ہفتے کی شام اپنے ایک خطاب میں کہا کہ لبنان میں داخلی سطح پر فتنہ بھڑک اٹھنے کا امکان ہے۔ وزیراعظم سعد الحریری کے مستعفی ہونے کے بعد باسیل نے بیرونی جنگ یا حکومتی خلاء کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

اس دوران لبنان میں المردہ موومنٹ کے سربراہ سلیمان فرنجیہ کا کہنا ہے کہ وہ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری کے مستعفی ہونے کی وجوہات نہیں جانتے۔ ہفتے کی شام اپنی ٹوئیٹ میں انہوں نے کہا کہ " یہ ان (حریری) کا اپنا فیصلہ ہے لیکن ہم کسی ایسے وزیراعظم کو قبول نہیں کریں گے جو ملک میں سنیوں کے لیے چیلنج ثابت ہو اور قومی سطح پر موافقت کا حامل نہ ہو"۔

سعد الحریری نے ہفتے کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں لبنانی وزارت عظمی سے سبک دوش ہونے کا اعلان کیا تھا۔ الحریری نے اس فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے باور کرایا کہ خطے میں ایران کے تخریبی ہاتھوں کو کاٹ کر پھینک دیا جائے گا۔