.

سعد حریری سعودی عرب سے فرانس روانہ ہو گئے

سعودی عرب میں 'قید' کیے جانے کی تمام باتیں افواہیں تھیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے مستعفی وزیر اعظم سعد حریری سعودی عرب سے فرانس روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ آج ہفتے کو فرانسیسی صدر سے ملاقات کریں گے۔ قبل ازیں فرانس روانگی سے قبل انہوں نے ’ٹوئٹر‘ پیغام میں کہا تھا کہ وہ سعودی عرب چھوڑ کر جا رہے ہیں اور ان کی قید کی اطلاعات غلط تھیں۔

لبنان کے ’المستقبل‘ ٹی وی چینل نے بھی سعد حریری کی فرانس روانگی کی تصدیق کی ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حریری آج ہفتے کی صبح فرانس کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔

سعد حریری گذشتہ دو ہفتوں سے سعودی عرب میں موجود تھے۔ یاد رہے کہ لبنان کے صدر میشل عون نے حال ہی میں پہلی مرتبہ کھلے عام سعودی عرب پر لبنانی وزیر اعظم سعد حریری کو قید میں رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

لبنان کے صدر عون نے کہا کہ سعد حریری کی وطن سے غیر حاضری کا کوئی جواز نہیں ہے اور انھوں نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔

سعد حریری نے ٹویٹر پر لکھا کہ سعودی عرب میں میرے قیام، روانگی اور میرے خاندان کے بارے میں جو کچھ بھی کہا گیا وہ سب افواہیں تھیں۔ میں سعودی عرب میں اس لیے ٹھہرا تھا تاکہ لبنان کی موجودہ صورت حال کے بارے میں سعودی قیادت سے صلاح مشورہ کیا جا سکے۔

سعد حریری نے نومبر کی چار تاریخ کو سعودی عرب سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا اور اس کے بعد سے اب تک وہ لبنان واپس نہیں جا سکے ہیں۔

اتوار کی رات کو سعد حریری نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ سعودی عرب سے واپس جانے پر وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور انھوں نے لبنان اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے چھوڑا تھا۔

توقع ہے کہ سعد حریری آج ہفتے کو فرانس میں صدر عمانویل ماکروں سے ان کے صدارتی محل الیزیہ میں ملاقات کریں گے۔