امریکا کردوں کو مسلح کرنے کا سلسلہ روکنے کے لیے پُر عزم
امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے توقع ظاہر کی ہے کہ شام میں داعش تنظیم کے خلاف حملوں کی کارروائیاں آخری مراحل میں داخل ہونے کے بعد اب توجہ شامی کرد جنگجوؤں کو مسلّح کرنے کے بجائے شامی سرزمین کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہو گی۔
انہوں نے یہ بات جمعے کے روز قاہرہ جاتے ہوئے فوجی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں کہی۔ البتہ میٹس نے یہ نہیں بتایا کہ آیا امریکا نے واقعتا اسلحے کی منتقلی کی کارروائیاں روک دی ہیں۔
میٹس کا کہنا تھا کہ "یہ بات واضح ہے کہ اب انہیں سکیورٹی ، پولیس فورس اور مقامی فورسز کی ضرورت ہے تا کہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ داعش ہر گز لوٹ کر نہیں آئے گی"۔
امریکی وزیر دفاع نے باور کرایا کہ صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق امریکا کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو مسلح کرنے کا سلسلہ روک دے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ٹیلیفونک بات چیت میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کو آگاہ کیا تھا کہ واشنگٹن شام کی سرزمین پر اپنے شراکت داروں کے لیے عسکری سپورٹ میں ترمیم کرے گا۔
-
شام : شامی فوج کا ہیلی کاپٹر اپوزیشن گروپوں کے ہاتھوں گر کر تباہ
شام میں اپوزیشن گروپوں نے جمعے کے روز مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے کے قریب شامی ...
مشرق وسطی -
شامی اپوزیشن کا روس سے شام کا بحران چھ ماہ میں حل کرنے پر زور
شامی اپوزیشن کے جنیوا مذاکرات میں شریک وفد کے سربراہ نصر الحریری نے روس اور دوسرے ...
مشرق وسطی -
شام : ماسکو کی مشرقی غوطہ میں دو روزہ جنگ بندی کی تجویز
روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس کے مطابق روسی وزارت دفاع نے تجویز پیش کی ہے کہ شام ...
مشرق وسطی