.

یرو شلم کو ابھی اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کیا: جیرڈ کوشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور ان کے مشیر جیرڈ کوشنر نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو بطور اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ایک تقریب کے دوران میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ مختلف حقائق کا جائزہ لے رہے ہیں اور جب وہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرلیں گے تو وہ خود اس سے آگاہ کردیں گے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکی نائب صدر مائیک پینس کہہ چکے ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں قائم امریکی سفارت خانے کو مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کی تاریخ اور طریقہ کار پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

انھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں اسرائیلی مشن دفتر میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے حوالے سے قرارداد پر رائے شماری کے 70 سال مکمل ہونے کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب میں کیا۔ اس قرارداد میں فلسطین کو تقسیم کرتے ہوئے ارض فلسطین پر صہیونی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی گئی تھی۔

رواں سال جون میں ایک امریکی عہدیدار نے کہا تھا کہ صدر ٹرمپ تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو القدس منتقل نہیں کریں گے۔ امریکی عہدیدار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا تھا کہ صدر ترمپ نے ایک دستاویزات پر دستخط کیے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی سفارت خانہ فی الحال تل ابیب ہی میں رہے گا۔ تاہم یہ فیصلہ صرف القدس کی منتقلی کے معاملے میں تاخیر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکا نے سفارت خانے کی القدس منتقلی کا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ موجودہ وقت تل ابیب سے سفارت خانے کی القدس منتقلی کے لیے مناسب نہیں۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس نے 1995ء میں امریکی انتظامیہ کو تل ابیب سے سفارت خانے کی القدس منتقلی کا اختیار دیا تھا مگر امریکی صدور قومی سلامتی کی تقاضوں کے پیش نظر اس فیصلے پر عمل درآمد موخر کرتے رہے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اور صدر منتخب ہونے کے بعد متعدد بار وعدہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانے کو القدس متنقل کریں گے۔