سعودی عرب کے موقف میں جعل سازی پر ایرانی رکن پارلیمنٹ چراغ پا
ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر علی مطہری نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلانِ قُدس کے حوالے سے سعودی عرب کے موقف میں جعل سازی کرنے پر ایرانی سرکاری میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی طلبہ کی نیوز ایجنسی اِسنا کی جانب سے اتوار کے روز جاری بیان میں مطہری کا کہنا تھا کہ "ایرانی میڈیا جس میں سرکاری ٹیلی وژن سرفہرست ہے ذرائع ابلاغ کی پیشہ ورانہ اخلاقیات سے عاری ہے"۔ مطہری کے مطابق ایرانی ٹیلی وژن کے نیوز ڈپارٹمنٹ نے میڈیا کی اقدار کے برخلاف ٹرمپ کے اعلان کی مخالفت میں دیے گئے سعودی بیان کو نشر نہیں کیا۔
مطہری نے باور کرایا کہ ایرانی سرکاری میڈیا اس امتحان میں ناکام ہو گیا اور وہ کوشش کر رہا ہے کہ ناظرین کو یہ باور کرا دے کہ مملکت سعودی عرب نے بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کے فیصلے کی کسی طور مخالفت نہیں کی۔
بدھ کے روز صدر ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دیے جانے کے بعد سے ایرانی میڈیا مشینری نے سعودی عرب پر الزامات عائد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ایرانی میڈیا کا دعوی ہے کہ امریکی سفارت خانے کے مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے فیصلے کے پیچھے سعودی عرب کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب ریاض اس یفصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کے لیے اپنے سپورٹنگ موقف کو باور کرا چکا ہے۔
ایران نے بیت المقدس کے حوالے سے امریکی صدر کے فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کو اُن عرب ممالک کے خلاف نکتہ چینی کے لیے استعمال کیا جنہوں نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے خلاف سازش میں ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ شریک ہے۔
اسی سیاق میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرم قاسمی نے پیر کے روز ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ "بعض عرب ممالک امریکی سفارت خانے کے بیت المقدس منتقلی کے فیصلے سے آگاہ تھے"۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی قُدس فورس 4 سے زیادہ عرب ممالک میں فرقہ وارانہ جنگوں ، شہریوں کے قتل اور بین الاقوامی دہشت گردی کے جرائم کے ارتکاب میں مصروف ہے.. تاہم اس نے 40 برسوں میں بیت المقدس کے لیے کچھ نہ کیا اور مسئلہ فلسطین کو نعرے کی شکل میں خطے میں اپنے توسیعی منصوبے کے اہداف حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔