.

کیا احمدی نژاد کو فتنہ بھڑکانے کے الزام میں گرفتار کر لیا جائے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عدلیہ کے سربراہ صادق آملی لاریجانی نے سابق صدر محمود احمدی نژاد اور ان کے معاونین کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں ایک "نیا فتنہ" بھڑکانا چاہتے ہیں۔ یہ وہ ہی الزام ہے جو شدت پسندوں نے سبز تحریک کے دو رہ نماؤں کروبی اور موسوی کے خلاف عائد کیا تھا اور اس کے نتیجے میں دونوں کو نظر بند کر دیا گیا۔

احمدی نژاد نے ایک نئی وڈیو ٹیپ میں نمودار ہو کر ایرانی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے علی خامنہ ای کے بعد ایران میں دوسرے سب سے زیادہ با اثر لاریجانی خاندان کے بارے میں استہزائیہ انداز اپنایا تھا۔ نژاد نے کہا کہ "خدا کی قسم میرے پاس ایسی اولاد نہیں جو مغرب کے لیے جاسوسی انجام دیں اور نہ میرے ایسے بھائی ہیں جو سامان کی اسمگلنگ میں سرگرم ہوں۔ یہاں تک کہ میں نے کوئی اراضی بھی چوری نہیں کی تا کہ وہاں مویشی پال سکوں"۔

صادق لاریجانی نے بدھ کی شام سخت گیر ٹولے کے قریبی طلبہ کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے احمدی نژاد کے جواب میں کہا کہ "فتنہ بھڑکانے والوں (موسوی ، کروبی اور رہنورد) کا کہنا ہوتا تھا کہ وہ انتخابات اور شوری نگہبان کو قبول نہیں کرتے جب کہ ان لوگوں (احمدی نژاد اور اس کے قریبی افراد) کا کہنا ہے کہ وہ عدلیہ کو قبول نہیں کرتے ہیں۔ اُن لوگوں نے بھی لوگوں کو احتجاج پر اکسایا اور اب یہ لوگ بھی اسی روش پر چلنے کے لیے کوشاں ہیں"۔

ایران میں ملکی حکام کے خلاف بہت سے اپوزیشن کارکنان کا کہنا ہے کہ سابق ایرانی صدر اور عدلیہ کے موجودہ سربراہ صادق لاریجانی کے درمیان جاری حالیہ اختلاف ملک میں سیاسی اور اقتصادی دونوں سطحوں پر بدعنوانی کے انکشاف کا ایک اچھا موقع ہے۔

اس کے باوجود بہت سے ایرانی کارکنان لاریجانی کے خاندان کے خلاف احمدی نژاد کے بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ اس لیے نہیں کہ عدلیہ کے سربراہ شفاف شخصیت کے مالک ہیں بلکہ یہ لوگ احمدی نژاد پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنے مخالف حلقوں کو ان انکشافات کے ذریعے کھینچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ ایرانی عوام کی اکثریت یہ جانتی ہے کہ خود احمدی نژاد کے دور حکومت میں ملک میں اپوزیشن کے خلاف بدترین کریک ڈاؤن دیکھا گیا۔

احمدی نژاد نے چند روز قبل کہا تھا کہ وہ 2012 میں جیل میں تشدد کے دوران ایرانی بلاگر ستار بہشتی کی موت کے بعد عدلیہ کے سربراہ کے سامنے چیخے اور چلّائے تھے۔ تاہم صادق لاریجانی نے گزشتہ روز اپنے جواب میں احمدی نژاد پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ احمدی نژاد کی جرات نہیں تھی کہ وہ ایسا کرتے۔

انٹرنیٹ کے جرائم سے متعلق ایرانی پولیس نے نومبر 2012 کو بلاگر ستار بہشتی کوگرفتار کیا تھا۔ گرفتاری کے ایک روز بعد ہی بہشتی نے حکام کو باقاعدہ شکایت پیش کی کہ اُس کے ساتھ بدترین معاملہ کیا جا رہا ہے۔ ایوین کے جیل خانے میں 41 بدنام زمانہ قیدیوں نے گواہی پیش کی کہ انہوں نے بہشتی کے جسم پر تشدد کے نشانات دیکھے۔ حکام نے ستار بہشتی کو ایک دوسری جیل منتقل کر دیا اور اس کے دور روز بعد ہی دواران حراست اس کی موت کا اعلان کر دیا۔