مذاکرات ناکامی کی صورت میں ٹرمپ نے کیا منصوبہ بنا رکھا ؟ ریپبلکن سینیٹر نے انکشاف کردیا
ٹرمپ طاقت سے آبنائے ہرمز پر قبضہ کریں گے، گزرنے والوں پر فیس لگائیں گے، ایران نے مقابلہ کیا تو اسے تباہ کردیں گے: لنڈسے گراہم
ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساڑھے چار گھنٹے گزارے ۔ انہوں نے اس منظر نامے کی وضاحت کردی جس کی امریکی انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری ڈیل کی ناکامی کی صورت میں توقع کر رہی ہے۔
امریکی نیٹ ورک "سی بی ایس " نیوز کو دیے گئے بیانات میں لنڈسے گراہم نے کہا کہ میں نے جمعہ کو صدر ٹرمپ کے ساتھ 4.5 گھنٹے گزارے۔ اگلا جو کچھ میرے خیال میں ہونے والا ہے وہ یہ ہے۔
انہوں نے کہا اگر یہ ڈیل ناکام ہو جاتی ہے، تو صدر ٹرمپ آبنائے ہرمز پر طاقت کے ذریعے قبضہ کر لیں گے۔ ہم اس آپریشن کے اخراجات کو پورا کرنے کے لیے وہاں سے گزرنے والے تمام لوگوں پر فیس عائد کریں گے اور اگر ایران نے آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے لیے امریکہ سے مقابلہ کیا تو ہم اسے تباہ کر دیں گے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی معاملے میں تیزی سے پیش رفت دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایران کی جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مذاکرات کے جاری رہنے کے ساتھ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک ابتدائی امریکہ- ایران مفاہمت کی یادداشت پر اتفاق ہو گیا ہے۔
آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین سٹریٹجک گزرگاہوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ اسی کی وجہ سے اس کے استحکام کو لاحق کوئی بھی خطرہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔
یہ بیان ایران کے حوالے سے لنڈسے گراہم کے سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بیان معاہدوں پر عمل درآمد میں تہران کی سنجیدگی کے بارے میں ان کے پچھلے شکوک و شبہات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔