.

امریکی یونیورسٹی قاہرہ نے نقاب پر پابندی کا فیصلہ واپس لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں امریکی یونیورسٹی نے اپنے کیمپس کی حدود میں خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی عاید کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔جامعہ کی طالبات اور فیکلٹی کی خواتین ارکان نے اس فیصلے کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

امریکی یونیورسٹی قاہرہ نے قریباً ایک ہفتہ قبل یہ اعلان کیا تھا کہ کیمپس کی حدود میں طالبات ،فیکلٹی کی خواتین ارکان اور دیگر ملازماؤں کے نقاب اوڑھنے پر پابندی ہوگی ۔ وہ لیکچر ہالوں میں بھی مکمل حجاب نہیں اوڑھ سکیں گی۔

اب یونیورسٹی نے اچانک ایک ای میل کے ذریعے یہ فیصلہ واپس لے لیا ہے اور کہا ہے کہ بعض طالبات اور عملہ کی ارکان خواتین نے اس پابندی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس فیصلے سے متاثر ہوئی ہیں۔

ایک نیوز ویب سائٹ مصراوی کی رپورٹ کے مطابق اس پابندی کی مخالفت کرنے والے افراد نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ یونیورسٹی کی پالیسیوں کے منافی ہے۔دوسری جانب جامعہ میں خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی کے حامیوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ یہ اقدام سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس جامعہ کا کہنا ہے کہ اس کی سکیورٹی پالیسیاں اور طریق کار اس کے کیمپس میں تمام طلبہ و طالبات اور فیکلٹی کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ مصر کی بڑی سرکاری یونیورسٹی جامعہ قاہرہ نے 2016ء میں اپنے عملہ میں شامل خواتین کے نقاب اوڑھنے پر پابندی عاید کردی تھی۔اس وقت اس فیصلے کے خلاف کافی شور وغوغا اور احتجاج کیا گیا تھا لیکن اس جامعہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ نقاب پوش معلمات اور طلبہ وطالبات کے درمیان براہ راست ابلاغ میں رکاوٹ پڑتی ہے۔