.

ایران القدس کی آڑ میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم آگے بڑھا رہا ہے:قرقاش

میزائل پروگرام، شام میں قیام اور حوثیوں کی پشت پناہی ایران کے تین محور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے کہا ہے کہ ایران اپنے میزائل پروگرام کے دفاع، شام میں اپنی موجودگی کو قانونی شکل دینے اور یمن میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی سنگین پالیوں کو چھپانے کی کوششیں کررہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کو القدس کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ بیت المقدس شریف کے مسئلے پر ایران کا موقف خطے میں ایرانی توسیع پسندی اور مہم جوئی کا حصہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ‘ٹوئٹر‘ پر پوسٹ کردہ متعدد ٹویٹس میں انور قرقاش نے کہا کہ ایران کے موجودہ سیاسی بیانیے کے تین محور ہیں۔اول یہ کہ جب سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام غیر دفاعی ہے تہران اپنے میزائل پروگرام کا دفاع چاہتا ہے۔ دوم شام میں ایرانی موجودگی مزید توسیع دینا اور اسے سند جواز مہیا کرنا ہے اور تیسرا محور یمن کے حوثی باغیوں کی پشت پناہی کرنا اور پیپلز کانگریس کو توڑنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران عرب خطے میں تشدد کو ہوا دینے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انور قرقاش کا کہنا تھاکہ ایران نے بیت المقدس کے معاملے کو اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور عرب ممالک میں مہم جوئی سے جوڑ رکھا ہے مگر عرب ممالک میں ایرانی تخریب کاری اور تشدد کی سیاست کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔