سعودیہ پر حملوں کے بعد ایرانی میزائل خطرات کا انسداد ناگزیر ہوچکا

ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی روک تھام پہلی ترجیح: انور قرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض پر یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے بیلسٹک میزائل کی ناکام کوشش کے بعد ایران کا میزائل پروگرام زیادہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ان حملوں کے بعد یہ ثابت ہوگیا ہے کہ ایران کی طرف سے بڑھتے خطرات کو روکنا اولین چیلنج ہے۔ تمام عرب ممالک کو ایرانی خطرات کی روک تھام کے لیے ایرانی خطرے کو پہلی ترجیح قرار دینا چاہیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق ’ٹویٹر‘ پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں ایران کی مدد سے یمن کے حوثی ہمارے لیے ایک نئی حزب اللہ بن رہے ہیں۔ ہمارے لیے حوثیوں سے نمٹنا اہم چیلنج ہے۔ حوثی باغیوں کو ایران کی طرف سے ملنے والی معاونت اور مدد انہیں راہ راست پر لانے میں رکاوٹ ہے۔ حوثی باغیوں نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی تمام کوششیں مسترد کیں جس کے بعد یہ واضح ہوا کہ ان کے ساتھ لچک دکھانے کا کوئی جواز نہیں۔

اماراتی وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ریاض پرحوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں نے ایرانی بیلسٹک پروگرام کی روک تھام کو اولین اور فوری حل طلب مسئلہ بنا دیا ہے۔ ہم ایران کے میزائل پروگرام کے خطرات سے دوچار ہوچکے ہیں۔ عرب ممالک کو ایرانی خطرے کے انسداد کے لیے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔

القرقاش کا کہنا تھا کہ ایرانی خطرے کے خلاف خلیجی ممالک کو یکساں اور مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا۔ ایران کے حوالے سے غیر جانب دار رہنے کا وقت گذر گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں