.

اسرائیلی فوجیوں کو طمانچہ مارنے والی فلسطینی لڑکی گھر سے اٹھالی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ارض فلسطین نہتے فلسطینیوں اور جدید اسلحے سے لیس صہیونی فوجیوں کےدرمیان آئے روز میدان جنگ کا منظر پیش کرتا ہے۔ نہتا ہونے کے باوجود فلسطینی غیر معمولی جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھرپور مزاحمت کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کی جرات اور بہادری کی مثال دیکھنی ہو تو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس فوٹیج کو ضرور دیکھیے جس میں ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکی عہد تمیمی صہیونی فوجیوں کے ایک جھرمٹ میں گھس کر دو اہلکاروں کو طمانچہ رسید کرتی ہے۔

اگرچہ قابض فوج نے اس وقت تو فلسطینی لڑکی عہد تمیمی کوگرفتار نہیں کیا مگر بعد ازاں قابض فوج نے منگل کی شب غرب اردن کے وسطی شہر رام اللہ کے نواحی علاقے النبی الصالح میں واقع عہد کے گھر پر چھاپہ مارا اور عہد کو اٹھا لیا گیا۔

قابض فوج نے حسب معمول گھر کی جامہ تلاشی لی، قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی اور نقدی وطلائی زیورات لوٹ لیے۔ گھر میں موجود الیکٹرونکس کا سامنا قبضے میں لے لیا گیا۔

قبل ازیں جمعہ کے روز اسرائیلی فوج نے النبی الصالح بستی کا محاصرہ شروع کیا تو عہد تمیمی اور اس کی چند دوسری ساتھی بچیوں نے صہیونیوں فوجیوں کو اپنے گھروں سے دور کرنے کے لیے ان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی تھی۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عہد تمیمی دو اسرائیلی فوجیوں کو طمانچے مارنے کے ساتھ انہیں دھکے دے کر وہاں سے نکالنے کی کوشش کررہی ہیں۔ بچیوں کی مزاحمت کے بعد اسرائیلی فوجی گھر کےباہر سے جانے پر پرمجبور ہوگئے تھے۔

یہ فوٹیج اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں بھی نشر کی گئی۔ فوجیوں کو طمانچے مارنے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر تعلیم نفتالی بینٹ نے کہا کہ اس لڑکی کو اب پوری زندگی جیل میں گذارنی چاہیے جب کہ وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین نے کہا کہ فوجیوں پر حملہ کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پر عہد تمیمی کی غیر معمولی حمایت بھی دیکھی گئی۔ فوٹج پر زیادہ تبصرے اس کی حمایت میں کیےگئے اور کہا گیا ہے کہ عہد نے اپنی، اپنے گھر اور اپنے اہل خانہ کی عزت کی خاطر صہیونی فوجیوں کو طمانچے مارے ہیں۔ قابض فوجیوں کا فلسطینیوں کے گھروں کا محاصرہ کیوں کیا جاتا ہے۔ مبصرین نے عہد تمیمی کی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کے جبر وتشدد کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔