’شام، عراق میں داعشی جنگجوؤں کی تعداد 1000 سے کم رہ گئی‘
دونوں عرب ملکوں میں داعش کی کمر توڑ دی گئی
داعش کے خلاف قائم عالمی عسکری اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ شام اور عراق میں دولت اسلامیہ کے خلاف جاری آپریشن کے نتیجے میں تنظیم کی طاقت اور نیٹ ورک کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اب دونوں ملکوں میں ایک ہزار سے بھی کم جنگجو باقی بچے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تین ہفتے قبل عالمی اتحاد کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں شام اور عراق میں داعشی جنگجوؤں کی تعداد تین ہزار کے لگ بھگ بتائی گئی تھی۔ موجودہ اعداد و شمار اس تعداد سے دو تہائی کم ہیں۔
حال ہی میں عرب اتحاد نے شام اور عراق میں داعش کے خلاف آپریشن کے اختتام کا اعلان کیا تھا اور ساتھ ہی دعویٰ کیا تھا کہ داعش کا منظم نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے۔
عالمی اتحاد کی قیادت کرنے والے امریکا نے باور کرایا ہے کہ سنہ 2014ء کو عراق کے ایک تہائی علاقے پر ڈرامائی انداز میں قبضہ کرنے اور شام میں وسیع علاقوں میں اپنی حکومت قائم کرنے والی داعش کو فضائی حملوں، عراقی اور شامی کرد اور عرب گروپوں کی مدد سے کچل دیا گیاہے۔
عالمی اتحاد کی طرف سے ’رائیٹرز‘ کو بھیجی گئی ایک ای میل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہمارے اندازوں کے مطابق داعش کے بیشتر جنگجو ہلاک یا گرفتار کیے جا چکے ہیں جب کہ ایک ہزار سے بھی کم تعداد میں بچ جانے والے جنگجو شام کے مشرقی علاقوں اور عراق کے مغرب میں صحرائی علاقوں میں پھیل چکے ہیں۔
تاہم ان اعداد و شمار میں مغربی شام کے علاقوں میں موجود داعش کے جنگجو شامل نہیں کیونکہ ان علاقوں میں اسد رجیم کی وفادار فورسز کا کنٹرول ہے۔
کل بدھ کو اسد رجیم کے سب سے بڑی اتحادی روس نے داعش کے خلاف جنگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ شام میں داعش کے خلاف معرکہ ختم ہو گیا ہے اور اگلا محاذ النصرہ کے خلاف کھولا جائے گا۔
قبل ازیں پانچ دسمبر کو امریکی اتحاد نے بتایا تھا کہ شام اور عراق میں داعشی جنگجوؤں کی تعداد 3000 کے قریب ہے۔ نو دسمبر کو عراق نے بھی داعش کے خلاف جنگ کے اختتام کا اعلان کیا تھا۔
تاہم امریکی اتحاد اور عراقی حکومت آپریشن میں داعش کے ہلاک اور گرفتار جنگجوؤں کی تعداد بتانے یا فرار ہونے والوں کے حقیقی اعداد و شمار نہیں بتا سکے۔
-
شام میں اگلا مشن ’النصرہ فرنٹ‘ کو ختم کرنا ہے: روس
شام میں داعش کے خلاف آپریشن اختتام پذیر
مشرق وسطی -
روس کا امریکا پر شام میں داعش کے سابق جنگجوؤں کو عسکری تربیت دینے کا الزام
روس کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف ولیری جراسیموف نے امریکا پر شام ...
مشرق وسطی -
’داعش‘ کے بعد اگلا چیلنج سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ہے: العبادی
عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے ...
مشرق وسطی